سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے وادی میں میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے ۔ ڈاک نے بتایا ہے کہ کشمیر میں میڈیکل یونیورسٹی کے قیام سے طبی شعبہ مضبوط ہوگا اور اس سے علاج و معالجہ کے طریقہ کار میں بھی بہتر ی آسکتی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرکے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ موجودہ دور میں وادی کشمیر میں طبی نگہداشت کے سیکٹر میں بہتری اور مضبوطی لانے کیلئے وادی کشمیر میں میڈیکل یونیورسٹی کا قیام ناگزیر بن گیا ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ یونیورسٹی فزیشن ، معیاری گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تربیت یافتہ عملہ فراہم کرے گی جس سے جموں کشمیرکے طبی شعبہ کو مزید تقویت ملے گی ۔ اس کے علاوہ بہتر طبی تعلیم سے مربوط طبی عملہ اور نرسیں بھی یونیورسٹی سے فراہم ہوں گی جس سے جموں کشمیر خاص کر وادی کے ہسپتالوں میں طبی عملہ کی کمی بھی پوری ہوجائے گی اور مریضوںکو بہتر طبی سہولیات بہم رکھنے میں مدد ملے گی ۔ اس دوران ڈاک جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ یونیورسٹی میڈیکل نصاب کو نئی سمت دے گی جو کہ طب کی پریکٹس کے معیار کو بلند کرے گی۔ یونیورسٹی ایک ایسا ماحول فراہم کرے گی جو تحقیق کے لیے سازگارہوگا جو ہمیں آگے لائے گا۔اس دوران ڈاک کے نائب صدرڈاکٹر میر محمد اقبال نے کہا کہ ایک علیحدہ میڈیکل یونیورسٹی سے ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام سے نرس اور پیرا میڈیکل عملہ میں اضافہ ہوگا جن کے کاندھوں پر سب سے زیادہ مریضوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ معیاری صحت نگہداشت فراہم کرسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور دنیا بھر میں اعلی معیار کے پیشہ ور افراد کو ایک تعلیمی طبی ماحول میں پریکٹس ، پڑھانے اور تحقیق کی طرف راغب کرے گا۔