عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//انوائرنمنٹل پالیسی گروپ نے کشمیر وادی میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکموں سے فوری، مربوط اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ای پی جی کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں جنگلات کی کٹائی، آبی ذخائر کی تباہی، قدرتی وسائل کی لوٹ مار اور ٹھوس کچرے کی بے لگام ڈمپنگ نے وادی کے قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ شہروں میں فضائی آلودگی اور بدبو عوامی صحت کے لیے ہنگامی صورتحال بن چکی ہے، جبکہ سرینگر کا اچھن کچرا ڈمپ اس بحران کی واضح مثال ہے۔گروپ نے کہا کہ جھیلیں، ندیاں اور ویٹ لینڈز بدانتظامی کا شکار ہیں، جبکہ ویٹ لینڈز کی مٹی فروخت کر کے فنڈز اکٹھا کرنا، غیر قانونی تعمیرات، پہاڑوں کی کٹائی اور زرعی و جنگلاتی زمینوں کا کمرشل استعمال شدید ماحولیاتی عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ای پی جی نے غیر قانونی مائننگ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اہمیت کے حامل ان مقامات کو تعمیراتی مواد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔گروپ نے نشاندہی کی کہ جنگلات اور وائلڈ لائف محکمے عملے کی کمی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار ہیں، جس سے موثر تحفظ ممکن نہیں رہا۔EPG نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ فضائی و آبی آلودگی اور کچرا مینجمنٹ کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا جائیدریاں، جھیلوں اور ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا جائے ،ویٹ لینڈ مینجمنٹ ایکشن پلانز کو بحال کیا جائے فوسل پارک کے تحفظ و ترقی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے جائیں،زلزلہ زون5میں ماحولیاتی تباہی والے منصوبوں سے گریز کیا جائے غیر قانونی تعمیرات، ویٹ لینڈ مٹی کی فروخت اور لینڈ کنورژن پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ای پی جی نے کہا کہ بروقت اور مشترکہ اقدامات کے بغیر کشمیر کی ماحولیاتی توازن، عوام کی صحت اور مستقبل کو سنگین خطرات لاحق رہیں گے اور تمام پالیسی سازوں، منصوبہ سازوں اور قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر ماہرین کی سفارشات کی حمایت کریں۔