عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی کیلئے سب سے اہم شرط ایک محفوظ اور پْرامن ماحول کی بحالی ہے، اور حکومت ان کے مذہبی مقامات کے تحفظ کو ترجیح دے رہی ہے۔اسمبلی میں ایک پرائیویٹ ممبر بل پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی ایک حقیقت ہے جس سے نہ حکومت انکار کرتی ہے اور نہ ہی کوئی اور۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ان کی واپسی کیلئے کوششیں کیں، تاہم زمینی صورتحال ابھی ایسی نہیں بنی کہ کمیونٹی خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے واپس آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس اعتماد کی بحالی کے بغیر ان کی واپسی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، “اعتماد کی بحالی کے بغیر واپسی کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بے گھر کشمیری پنڈتوں کی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور ان کے مذہبی مقامات کو محفوظ اور برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایسی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی کوششیں کی گئیں، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کوئی بھی قانون سازی وسیع اتفاق رائے کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی تقسیم سے بچا جا سکے۔عمر عبداللہ نے اس تاثر پر بھی بات کی کہ بعض اوقات صرف ایک پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ باہمی ہم آہنگی اور تحفظ کی مثبت مثالیں کم اجاگر ہوتی ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت بے گھر کشمیری پنڈت برادری کی فلاح و بہبود اور تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور ایسے حالات پیدا کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے جن میں وہ محفوظ اور باعزت طریقے سے اپنی واپسی ممکن بنا سکیں۔