سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے کورونامثبت مریضوں کے جینیاتی نمونوں کی جانچ کرنے پرزوردیا ہے تاکہ وادی میں کووِڈ- 19کے نئی ہیت کے وائرس کاپتہ لگایا جائے۔ایک بیان میں ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ،’’جینیاتی جانچ سے نہ صرف معلوم تغیریافتہ وائرس کی نشاندہی ہوگی جووادی میں داخل ہوچکا ہوگابلکہ خطے میں کسی نئے تغیریافتہ وائرس کے معرض وجودمیں آنے کی بھی جانچ ہوگی۔انہوں نے کہا تغیریافتہ اقسام کے وائرسوں کا پتہ لگانے سے کووِڈ- 19کی گزشتہ لہر جیسی کسی اور لہر کے وقوع پزید ہونے کو روکاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے تغیر یافتہ اقسام کوڈھونڈ نکالنے سے موثراور مناسب صحت پالیسی ترتیب دینے میں کلیدی کردار کی اہمیت کاحامل ہے جس سے سماج میں اس کے پھیلنے کوروک کر اس پر قابوپایاجاسکتا ہے ۔ ڈاکٹرنثارالحسن نے کہا کہ اگر ہم اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں سے آگاہ نہیں ہوں گے توہم اندھیرے میں دوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تغیریافتہ اکثر اقسام کے وائرس بے معنی ہوتے ہیں تاہم کوئی ان میں سے زیادہ متعدی ہوتا ہے یا ویکسین اور علاج کی مدافعت رکھتا ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ تین غیر ملکی اقسام کے وائرس جن میں برطانیہ ،جنوبی افریقہ اور برازیل کے اقسام شامل ہیں ،بھارت میں پہنچ چکے ہیں اور یہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ان پرتحقیق کی جارہی ہے کہ آیا یہ وائرس زیادہ مہلک بیماری پھیلا سکتے ہیں یانہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ حال ہی میں دوتغیریافتہ اقسامN440KاورE484K مہاراشٹر،کیرل اور تلنگانہ میں پائے گئے جن سے تشویش پیدا ہوئی کیوں کہ ان کی موجودگی کا پتہ اس وقت چلا جب ان ریاستوں میں کورونا کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی اقسام کی وائرس کی علامات بھی وہیں ہیں۔کھانسی اوربخار کے علاوہ دیگرعلامات میں نئے قسم کے وائرس میں تھکاوٹ،پٹھوں میں درد،سردرد،بھوک نہ لگنا،اسہال اور ذہنی الجھن شامل ہیں۔نئے قسم کاوائرس بھی پرانے وائرس کی ہی طرح پھیلتا ہے ،یعنی کھانسنے،چھینکنے یابولنے سے ایک دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے بچائو کیلئے ماسک،ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلے رکھنا لازمی ہے۔