عاصف بٹ
کشتواڑ// سیکورٹی فورسز نے جموں خطے میں اپنی انسداد ملی ٹینسی کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے پیر کو مشتبہ انداز میں حرکت کرنے والے دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ حکام نے بتایا کہ کشتواڑ ضلع میں برف سے ڈھکے چھاترو کے بالائی علاقے ڈولگام میں تلاشی آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا تاکہ ملی ٹینٹوں کا سراغ لگایا جا سکے اور انہیں بے اثر کیا جا سکے جو پچھلے پندرہ دن کے دوران کم از کم چار تصادم میں مصروف تھے۔ کشتواڑ میں تلاشی مہم پیر کو 16ویں دن میں داخل ہوگئی جس میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف پر مشتمل سرچ پارٹیاں چھپے ہوئے ملی ٹینٹوں کو تلاش کرنے میں لگی ہیں۔31جنوری کو ڈولگام گائوں سے ملی ٹینٹوںکے فرار ہونے کے بعد ان کے ساتھ کوئی نیا رابطہ نہیں ہوا۔ حکام نے بتایا کہ اتوار کو درمیانی برف باری نے آپریشن میں خلل ڈالا۔10 کلومیٹر کے دائرے میں آپریشن کا آغاز 18 جنوری کو سونار گائوں میں فائرنگ سے ہوا، جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور سات دیگر فوجی زخمی ہوئے۔ادھرانہوں نے بتایا کہ فوج کی کوئیک ری ایکشن ٹیم (کیو آر ٹی)نے صبح 10.30 بجے کے قریب سانبہ ضلع کے بڑی برہمنہ علاقے میں ان کے کیمپ کے قریب سے دو مشکوک افراد کو پکڑا اور بعد میں پوچھ گچھ کے لیے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔سیکورٹی فورسز نے اتوار کی رات رام نگر سیکٹر کے جوفر علاقے میں بھی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی اور فوری طور پر جوفر، مارتا، کلتھیان، سوہان، کھیال اور چور موٹو کو دریائے اجھ کے ساتھ تلاشی مہم شروع کی، تاہم آپریشن کے دوران کوئی مشکوک شخص نہیں ملا۔عہدیداروں نے بتایا کہ ضلع ادھم پور کے رام گڑھ کے جنگلات اور راجوری ضلع کے کلاس ٹاپ میں بھی مشتبہ ملی ٹینٹوںکی نقل و حرکت کی اطلاع ملی اور اس کے مطابق دونوں جگہوں پر آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ پونچھ، راجوری، کٹھوعہ، ڈوڈہ اور ریاسی اضلاع کے درجنوں دیگر بالائی علاقوں میں بھی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں ملی ٹینٹوں کو تلاش کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر جاری ہیں۔