مشتاق الاسلام
پلوامہ// پلوامہ قصبہ میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی واٹر سپلائی سکیمیں عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہیں، جس کے باعث شہری متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر شروع کی گئی یہ سکیمیں عملی طور پر غیر فعال ہیں اور زمینی سطح پر صورتحال انتہائی تشویشناک بن چکی ہے۔مقامی رہائشی مدثر احمد ملک نے بتایا کہ سرکاری سکیموں سے پانی کی مسلسل عدم فراہمی کے باعث انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں بورویل کھود لیا تاکہ پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سرکاری سکیموں سے کوئی عملی فائدہ نہیں مل رہا اور لوگ اپنی جیب سے اضافی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔سرنو پلوامہ کے رہائشی محمد اشرف وگے کے مطابق ان کے علاقے میں تقریباً تین کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑی واٹر سپلائی سکیم تعمیر کی گئی تھی جو درجنوں علاقوں کو پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی، مگر سرکاری خزانے سے رقم نکلنے کے باوجود عوام صاف پانی سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی غیر مستقل فراہمی اور ناقص معیار سے تنگ آ کر متعدد صارفین سرکاری کنکشن منقطع کر رہے ہیں۔ڈلی پورہ کے مکینوں نے بتایا کہ بابہ گنڈ میں پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سکیم ماضی میں پانی فراہم کرتی تھی مگر اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال اس سکیم کو فعال بنانے کیلئے مزید 25لاکھ روپے خرچ کئے گئے، تاہم اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔مقامی شہری رئوف محمد خان نے بتایا کہ کئی علاقوں میں لوگ پانی کے بل ادا کرنے کے باوجود پانی نہ ملنے پر سرکاری کنکشن بند کر رہے ہیں اور ٹیوب ویل نصب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ محکمہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رواں سال بھی درجنوں صارفین پانی کی عدم دستیابی کے باعث کنکشن ختم کر چکے ہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واٹر سپلائی سکیموں کا شفاف آڈٹ کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور پینے کے صاف پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔