راجا ارشاد احمد
گاندربل//محکمہ صحت کی جانب سے تمام اضلاع میں بہترین طبی سہولیات اور ماہرین دستیاب رکھنے کے بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں وہی دوسری جانب ضلع گاندربل کے بیشتر علاقوں میں محکمہ صحت کی جانب سے بہتر سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں نفوس کی آبادی کو علاج معالجے کے لئے سرینگر کے مختلف ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔گاندربل کے نواحی علاقہ کرہامہ میں سال 2007 میں کانگریس اور پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت میں اس وقت کے کابینہ وزیر قاضی محمد افضل نے پرائمری ہیلتھ سینٹر کے لئے چار کنال سے زائد اراضی حاصل کی گئی. جس دوران پرائمری ہیلتھ سینٹر کو تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی جن میں ایکسرے مشین، جدید طرز کی تشخیص لیبارٹری، دو دو ایمبولینس گاڑیاں، دانتوں کے امراض کے لئے تمام تر سہولت سمیت دیگر طبی امراض کے لئے لازمی چیزیں ہسپتال میں میسر رکھی گئی.جس کے لئے محکمہ صحت کی جانب سے باضابطہ کرہامہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کے لئے ادویات سمیت دیگر لازمی چیزوں کے لئے سپلائی وغیرہ آتی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق مخلوط حکومت میں کرہامہ میں جدید طرز پر مبنی پرائمری ہیلتھ سینٹر کی منظوری ممکن بنائی تھی جس کی وجہ سے درجنوں علاقوں جن میں کرہامہ، بارسو، بادام پورہ، ززنہ، لٹہ وازہ،ینگورہ ،چک ینگورہ،کوندہ بل سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں کی آبادی کو طبی سہولیات فراہم ہورہی تھی. تاہم قاضی محمد افضل کی وفات کے بعد آہستہ آہستہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں تعینات طبی ماہرین اور عملہ کی دوسری جگہ تبادلہ عمل میں لایا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ وقت میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کو سب سنٹر میں تبدیل کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے مقامی آبادی نے متعدد بار محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے سامنے اپنا احتجاج اور ناراضگی کا اظہار کیا۔کرہامہ کے مقامی شہری خورشید احمد نے بتایا کہ سال 2019 میں ہمیں اس وقت صدمہ لگا جب یہ پتہ چلا کہ یہ سب کچھ فراڈ تھا. نہ ہی کبھی یہاں پرائمری ہیلتھ سینٹر قائم کیا گیا تھا اور نہ ہی کاغذات پر کہیں یہ پرائمری ہیلتھ سینٹر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا حکومت سے یہ سوال ہے کہ اگر یہ پرائمری ہیلتھ سینٹر نہیں تھا تو یہاں پر کروڑوں روپے کی لاگت سے پرائمری ہیلتھ سینٹر کے نام پر جدید طرز کی عمارت کیوں بنوائی گئی جس میں تمام بنیادی سہولیات دستیاب رکھی گئی تھی.جموں کشمیر بنک واکورہ میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کرہامہ کے نام پر باضابطہ اکاؤنٹ بھی چل رہا ہے،لوگوںنے مقامی آبادی ممبر اسمبلی گاندربل جو کہ اس وقت وزیر اعلیٰ بھی ہیں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کی جانب توجہ کرکے درجنوں علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرائیں ۔”