ظفر اقبال
اوڑی/سرحدی قصبہ اوڑی میںکروڑوں روپے کی واٹر سپلائی سکیمیں بے کار ہیں اوران سکیموں کا زمینی سطح پر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔مختلف دیہات میں پرانی پانی کی سکیموں کو اسی طرح چھوڑ کر نئی سکیموں کی منظوری دے کر تعمیر کی گئی ہیں جبکہ پرانی سکیموں کو مرمت کی ضرورت ہوتی تھی مگر مرمت کے بجائے کئی سکیموں کو منظوری دی گئی ہے۔ قصبہ اوڑی اور بونیار کے مضافاتی گاوں جن میں گھرکوٹ، نامبلہ، ہتھلنگا، صورہ، چرنڈا، بٹگراں، ماچھی کرنڈ ، گوہالن، چوٹالی ، میدانن، لاجڈی، باغ دودرن، دارہ گوجن، سمالی، بگنہ، لچھی پورہ، نورکھا شامل ہیں ،میں آگر چہ پرانی سکیمیں موجود تھیں اور جنہیں مرمت کی ضرورت تھی مگر محکمہ نے پانی کی نئی سکیموں کو منظوری دے کر کروڑوں روپے خرچ کئے ۔کئی علاقوں میں نئی سکیموں کی تعمیر کے بعد ہی یہ سکیمیں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ سال 2005 اوڑی کے کئی علاقوںمیں پانی کی سکیمیں تعمیر کی گی تھی مگر بغیر استعمال یہ پانی کے حوض اور فلٹر پلانٹ بے کار پڑے ہیں اور بچھائی گئی پائیپوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔ سال 2011 میں اوڑی کنٹرول لائن پر واقع سہورہ ریکھیاں پہک، سے بلکوٹ نامی گاوں کے لئے کرڑوں روپے لاگت کی واٹر سپلائی سکیم کو منظوری دے کر کام شروع کیا گیا۔ اس سکیم کے تحت موٹھل، بلکوٹ ڈنہ، بلکوٹ کریری تھپلہ، سلی کوٹ تک پائپیں بچھائی گئی اور تین پانی کے حوض بھی تعمیر کئے گے تھے مگر موٹھل گاوں تک ہی پانی بحال کیا گیا اور تینوں پانی کے حوض بے کار پڑے ہیں اور سکیم کی پائپئں بھی سوکھی پڑی ہوئی ہیں۔ بونیار کے ہلن اجارہ، ہلن پہلی پورہ, مقام، منزگام، زہن پورہ، میں بھی کچھ سال قبل جے جے ایم سکیم کے تحت پانی کی سکیموں کو منظوری دی گی جنکی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا مگر ابھی تک انکی تعمیر مکمل نہ ہوسکی، اسی طرح دکھن نامبلہ کے وارڈنمبر 7 میں ایک پانی کی سکیم منظور کی گی تھی پانی کی پائپیں بچھائی گی 5 اور10 گیلن کی دو پانی ٹنکیاں بھی تعمیر کی گئی مگر ابھی تک یہ پانی سکیم بھی عرصہ دراز سے بے کار پڑی ہوئی ہے اور علاقے کے لوگ برسوں سے پانی کے لئے پریشان ہیں۔اسی طرح کنٹرول لائن پر واقع چرنڈہ بٹگراں گاوں میں بھی کچھ سال قبل پانی کی سکیموں کو منظوری دے کا کام شروع کیا گیا تھا مگر انکی تعمیر کو بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا۔یہ بھی معلوم ہوا یے کہ محکمہ جل شکتی نے سال 19-2018 میں سرحدی قصبہ اوڑی میں تین پانی کے حوض تعمیر کئے تھے جن میں ایک 1 لاکھ بیس ہزار گیلن، دوسرا 60 ہزار گیلن اور تیسرا ،10 ہزار گیلن تھا مگر انہیں ابھی تک کار آمد نہیں بنایا گیا۔اسی طرح سال 2019 میں قصبہ اوڑی کے پانی سکیم کے لئے نامبلہ گاوں میں ایک 70 ہزار گیلن کا پانی حوض بنایا گیا جو بھی ابھی تک بے کار پڑا ہے۔اسی سال سید پورہ علاقہ میں ایک پانی حوض تعمیر کیا گیا جو اب تک بے کار پڑا ہوا ہے۔مقامی آبادی نے محکمہ جل شکتی کے وزیر ، ممبر اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع اور محکمہ جل شکتی کے علیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو باریک بینی سے تحقیقات کر ے کہ سرحدی قصبہ اوڑی میںکروڑوں روپے پانی کی سکیموں پر صرف کرنے کے باوجود زمینی سطح پر عوام کو ان سکیموں کا کیوں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔