ژالہ باری سے ہزاروں کاشتکار بحران کا شکار :یونین
سرینگر//کشمیر ویلی فروٹ گروورس کم ڈیلرس یونین نے حکومت سے متاثرہ باغ مالکان کیلئے جامع معاوضہ پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔جمعہ کو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ اور جنوبی کشمیر کے پلوامہ و شوپیاں اضلاع کے کئی علاقوں میں شدید ژالہ باری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں سیب کے باغات کو بھاری نقصان پہنچا اور ہزاروں باغ مالکان شدید متاثر ہوئے۔ حالیہ ژالہ باری گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیسری بڑی قدرتی آفت ہے جبکہ رفیع آباد میں یہ مسلسل دوسری ژالہ باری تھی۔ اس سے قبل 18اپریل اور 12 مئی 2026 کو آنے والی ژالہ باری اور تیز آندھیوں نے بھی باغات کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔رفیع آباد کے مختلف علاقوںسمیت گاندربل اور بانڈی پورہ کے بعض علاقوں میں شدید ژالہ باری ہوئی، جس کے باعث درختوں سے کچے سیب گر گئے اور پھلدار شاخیں ٹوٹ گئیں۔ یہ نقصان ایسے وقت میں ہوا ہے جب سیب کی فصل انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق چند ہی منٹوں میں باغات سفید چادر میں تبدیل ہوگئے اور کاشتکاروں کی کئی مہینوں کی محنت اور سرمایہ تباہ ہوگیا۔ ژالہ باری اس قدر شدید تھی کہ سیب فورا درختوں سے گرنے لگے، جس سے فروٹ کاشتکاروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان اٹھانا پڑا۔مسلسل ژالہ باری کے واقعات نے باغ مالکان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ وادی کے بیشتر لوگ اپنی روزی روٹی کیلئے مکمل طور پر باغبانی کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بار بار کی قدرتی آفات نہ صرف اس سال کی فصل کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ متاثرہ اضلاع کی دیہی معیشت کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔اس سے قبل بھی بارہمولہ کے سنگرامہ، واگورہ، کریری، پٹن، کنڈی اور ٹنگمرگ سمیت کئی علاقوں میں شدید ژالہ باری اور تیز آندھیوں کے باعث باغات کو نقصان پہنچا تھا۔جموں و کشمیر کی معیشت میں باغبانی کے شعبے کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔کشمیر ویلی فروٹ گروورس کم ڈیلرس یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیرکے مطابق لاکھوں افراد براہِ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ یہ بے روزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اب تک اپریل اور مئی 2026کی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کراپ انشورنس سکیم اور مارکیٹ انٹروینشن سکیم (MIS)کی عدم موجودگی نے انہیں مزید مالی بحران میں دھکیل دیا ہے۔کشمیر ویلی فروٹ گروورس کم ڈیلرس یونین نے حکومت سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے باغبانی شعبے کو کراپ انشورنس سکیم کے دائرے میں لایا جائے اور مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کو دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کے دوران باغ مالکان کو مالی تحفظ فراہم ہوسکے۔یونین کے مطابق وادی کے تقریبا 90 فیصد فروٹ کاشتکار چھوٹے اور متوسط درجے کے ہیں جن کا مکمل انحصار باغات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے۔ قدرتی آفات کے نتیجے میں باغات کی تباہی ان خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔یونین نے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا اوروزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی ہے کہ جموں و کشمیر کے باغبانی شعبے کیلئے فوری طور پر’کراپ انشورنس سکیم‘نافذ کی جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں باغ مالکان کو مالی تحفظ حاصل ہوسکے۔