دل کا سکون پانے کے لیے دلوں کو سکون دینا لازمی ہے۔ جب تک دوسروں کے دل آپ کی وجہ سے بے سکون رہیں گے، آپ کو کبھی بھی حقیقی سکون نہیں مل سکتا۔ یاد رہے کہ دلوں میں ربّ بستا ہے تو آپس میں اچھے اور نیک برتاؤ کریں کہ دوسروں کے دلوں اور دعاؤں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں، اپنا کردار اتنا مضبوط اور اپنا ظرف اتنا وسیع رکھیں کہ آپ کی ذات لوگوں کے لئے سکون اور خیر پہنچانے والی ہو اور اُن کے لئے آپ کا ساتھ باعث تقویت بنیں۔
ہمیشہ اس بات کو ذہن میں کہ جس کسی کے ساتھ آپ کا واسطہ پڑتا ہے تو سب سے پہلے اُس پر آپ کی زبان کا تاثر پڑتا ہے،دل تک تو ہر کوئی پہنچ نہیں پاتا۔کہتے ہیں کہ ’’توجہ‘‘ اگر پتھر کو بھی دی جائے تو وہ بھی نکھر جاتا ہے۔ہر وہ چیزپھلنے پھولنے لگتی ہے جسے تھوڑی سی بھی ’’توجہ ‘‘ملے۔انسان،حیوان،چرند،پرند سب آپ کے تابع ہونے لگتے ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی ’توجہ‘ کسی کی زندگی کو بدل سکتی ہے۔آپ کا تھوڑا سا وقت کسی کو پورا دن خوش رکھ سکتا ہے۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی ایک تسلی کسی کو دوبارہ جینے کے لیے آمادہ کر دے۔اس لیے اپنوں سے رابطے میں رہئے اور زندگی کو خوبصورت بنائیے۔جہاں تک ممکن ہو کسی کا دل نہ دکھائو،اگر کوئی تمہارے ساتھ نیکی کرے تو اس کے احسان مند رہو اور موقع ملنے پر اس کی نیکی کا بدلہ نیکی کے ساتھ دو۔ہم اگر کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کرتے ہیںاور دوسرا ہمارے ساتھ بھلائی نہیں کرتا تو ہمیں بالکل مایوس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ نیکی کا کوئی بدل نہیں ہوتا، جہاں نیکی بدلے کی نیت سے کی جائے تو پھر وہ نیکی ہی نہیں ہے۔ہم اللّٰه کے بندے کے ساتھ نیکی اللّٰه عزوجل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں اور اسکا بدلا بھی اللّٰه عزوجل ہی ہمیں دیتا ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے پاس ایک بوڑھا شخص بڑی دور سے پیدل چل کر کھانا لایا۔وہ بہت خوش تھا کہ آپ یہ کھانا ضرور کھائیں گے، اُسے معلوم نہ تھا کہ آپ روزے سے ہیں،خواجہ چستیؒ نے اس شخص کا دل رکھنے کے لیے اپنا روزہ توڑدیا۔وہاں موجود ایک شخص نے آپ کو یاد دلایا کہ آپ کا روزہ تھا،آپؒ نے فرمایا:روزہ توڑنے کا کفارہ ہے لیکن دل توڑنے کا کوئی کفارہ نہیں۔خیال رکھو کھبی بھی تمہاری وجہ سے کسی کا دل نہ ٹوٹے۔
(سوگن شوپیان،رابطہ۔9070931709)