عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر/مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے گلمرگ میں کھیلو انڈیا کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں کھیلوں کا ماحول نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں جو ملک کا نام روشن کرنے کے لیے اہل ہیں۔ وزیر کھیل نے کہا کہ وہ یورپ اور سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے 55 ممالک کی سیر کر چکے ہیں، مگر گلمرگ کی خوبصورتی اور کھیلوں کے ماحول کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ڈاکٹر مانڈویا نے بتایا کہ وہ گزشتہ سال بھی گلمرگ آئے تھے اور اس دوران وعدہ کیا تھا کہ دوبارہ آئیں گے تاکہ یہاں کے کھیلوں اور ٹورزم کے امکانات کا پوری طرح مشاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے وادی میں کھیلوں کے انعقاد کی تفصیلات دیکھنے کے بعد بہت خوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت گلمرگ کو بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کے لیے تیار کر رہی ہے تاکہ یہاں کے نوجوان عالمی معیار کے کھیلوں میں حصہ لے سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔انہوں نے کہا کہ چار روزہ ونٹر گیمز کا انعقاد نہ صرف کھیلوں کی ترویج کرتا ہے بلکہ سوسائٹی کو جوڑتا ہے، ہارنے اور جیتنے کے اصول سکھاتا ہے، اور کھیلوں کی ترقی کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ وزیر کھیل نے کہا کہ وادی میں کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے اور حکومت ہر سطح پر انہیں بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ڈاکٹر مانڈویا نے مزید کہا کہ وادی میں ورلڈ کلاس ٹورزم کے لیے گلمرگ کی خوبصورتی بے مثال ہے اور یہاں کھیلوں کے انعقاد سے سیاحتی شعبے کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اس سال کے ونٹر گیمز میں نو سو سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا جبکہ پچیس ممالک کے کھلاڑی بھی اس میں شریک ہوئے، جس سے کھیلوں کا عالمی معیار قائم کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ دنوں میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے اور کشمیر کھیلوں کے لیے مشہور ہو گا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ کشمیر ماضی میں پتھر بازی کے لیے مشہور تھا مگر آج یہ کھیلوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے 370 کی شق کی منسوخی کے بعد حالات میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پروگراموں کے دوران سیکورٹی کے مسائل اب نہیں ہیں اور جموں و کشمیر ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔