کنشاسا// افریقی ملک کانگو میں باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپ میں 14 جنگجو اور 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگو کے جنوبی علاقے میں فوج اور باغی جنگجووں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی، باغی جنگجو معدنیات سے بھرے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے جسے فوج نے ناکام بنا دیا۔ کانگو کے اس علاقے میں صدر کابیلا کے مخالف سابق کانگو آرمی جنرل ولیم اموری یکتومبا اپنے وفاداروں کے ہمراہ باغیوں کے گروپ میں ضم ہوگئے اور بروندی پر قبضہ کیا، جہاں اقوام متحدہ کی فورسز نے باغیوں کو پیچھے کو دھکیلا۔ کانگو میں لمبے عرصے سے صدارت کے عہدے پر براجمان صدر جوزف کابیلا کی تبدیلی کے لیے بالآخر 23 دسمبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں تاہم اس سے قبل ہی امن عامہ کی صورت حال مزید مخدوش ہوگئی ہے۔ لسانی فسادات سے گھرے کانگو میں بیلجیئم سے 1960 میں آزادی کے بعد سے اب تک کبھی بھی انتقالِ اقتدار پْرامن طریقے سے مکمل نہیں ہو پایا ہے۔