محمد عرفات وانی
فروری کی صبح تھی مگر دن ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ دھند اتنی گہری تھی کہ شہر اپنی ہی پہچان بھول چکا تھا اور سردی ہوا میں نہیں بلکہ سانسوں میں اتر چکی تھی۔ شہریار جاگ گیا تھا مگر دل پر امتحان کا خوف ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی خاموش بوجھ۔ اناٹومی اور فزیالوجی کا پیپر تھا مگر اسے یوں لگ رہا تھا کہ آج کتابیں نہیں انسان پرکھا جائے گا۔
اس نے وضو کیا، بارہ رکعت تہجد پڑھی، ہر سجدے میں ذرا دیر رکا کہ دل دوبارہ بھاری نہ ہو۔ قرآن کھولا، صورت یاسین شریف کی بھی تلاوت کی اور مختصر دعا مانگی: یا اللہ، جو درست ہو وہی میرے حق میں کر اور میرے دوستوں کے لئے بھی۔
فجر کے بعد ماں کی بنائی چائے کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی۔ اس کے ہاتھ کی گرمی سر پر محسوس ہوئی اور وہ دعا جو ہمیشہ ایک جیسی ہوتی تھی مگر ہر بار نئی لگتی تھی۔ باپ خاموش تھا، موبائل ہاتھ میں مگر نظریں کہیں اور۔ اس نے بس اتنا کہا: ہمت رکھنا۔ یہ لفظ نہیں تھے، برسوں کی محنت اور امیدیں تھیں جو شہریار کے اندر رکھ دی گئیں۔ گھر سے نکلا تو بارش کی ہلکی بوندیں چہرے سے ٹکرائیں، جیسے آنے والے دن کی سختی پہلے ہی بتا رہی ہوں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی دوستوں کا پیغام آیا بس دعا کرو امتحان ڈیوٹی والا ٹھیک نکل آئے۔ شہریار نے موبائل بند کر دیا کچھ دعائیں الفاظ سے زیادہ خاموشی مانگتی ہیں۔
راستے میں شہر دھند میں لپٹا ہوا تھا ننگے درخت، گیلی سڑکیں، مدھم روشنیاں۔ دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق شروع ہوا دو مہینے بعد ملاقات تھی، باتیں، یادیں، چھوٹے فقرے۔ ہنسی خوف کو ختم نہیں کر رہی تھی مگر اسے پیچھے ضرور دھکیل رہی تھی۔ امتحانی ہال کے قریب پہنچتے ہی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔ ہال میں داخل ہوتے ہی فضا بدل گئی، یہاں ہر چیز گنتی میں تھی وقت، سانسیں، غلطیاں سب ۔ شہریار ابھی بیٹھا ہی تھا کہ پیچھے سے قلم مانگا گیا اس نے بنا سوچے قلم دے دیا، جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔
اسی لمحے امتحان ڈیوٹی والے مغرور کی نظر اس پر پڑی۔ یہ نظر شک نہیں تھی یہ اختیار تھا۔ حکم آیا کھڑے ہو جاؤ، الگ بیٹھو۔ سب نگاہوں کے بیچ سے گزرتا ہوا وہ ایک کونے میں جا بیٹھا اور اسے یوں لگا جیسے اس کا وقار ہر قدم کے ساتھ ہلکا ہو رہا ہو۔ اصل لمحہ تب آیا جب مغرور خود اٹھ کر اس کے عین سامنے بیٹھ گیا۔ یہ نگرانی نہیں تھی، طاقت کی نمائش تھی۔ اسی پل شہریار کے دل میں ایک کمزور سا خیال آیاکہ کاش میں نے قلم نہ دیا ہوتا، کاش میں بھی سب کی طرح آنکھیں چرا لیتا۔ یہ خیال آیا، ٹھہرا اور پھر خاموشی سے بوجھ بن گیا۔
پرچہ ملا، سوال مشکل نہیں تھے مگر بے وقت تھے اور ذہن پہلے ہی بکھرا ہوا تھا۔ سامنے بیٹھا مغرور موبائل میں مصروف تھا۔ لڑکیوں سے چیٹ، ایموجیز، بے نیازی اور وقفے وقفے سے شہریار پر ناپتی ہوئی نظر۔ اسی دوران میم آئی، تین گھنٹے کی ڈیوٹی اور آٹھ سو روپے کی بات ہوئی اور مغرور کا غرور اور واضح ہو گیا جیسے ذمہ داری کوئی معمولی سودا ہو۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد آواز آئی جس کا ہو گیا ہے پیپر دے دے۔ یہ اعلان نہیں تھا، فرض سے فرار تھا۔ شہریار نے دیکھا کہ دوست نقل کر رہے ہیں، ہنس رہے ہیں اور ہال میں سب نے یہ منظر دیکھا، مگر کسی نے نہیں دیکھا کہ شہریار نے قلم مضبوط پکڑا جو آتا تھا لکھا، جہاں نہیں آتا تھا وہاں بھی کچھ چھوڑ دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ خالی جگہیں سب سے زیادہ بولتی ہیں۔
باہر نکلے تو دوست ہنس رہے تھے ہاہاہا کہ پیپر آسان تھا کیونکہ ہم نے موبائل فون سے پیپر کیا ۔ شہریار خاموش تھا۔ شام کو چائے کی دکان پر بیٹھے، برف ہلکی ہلکی گرتی رہی، باتیں ہوئیں، اور دکھ بانٹ لینے سے کچھ ہلکا ہوا۔ واپسی پر شہر اور زیادہ خالی لگ رہا تھا۔ شہریار جانتا تھا کہ وہ چاہے تو بدلہ لے سکتا ہے طاقت اور اثر رکھتا تھا اور یہی سوچ سب سے زیادہ خطرناک تھی۔ پھر ماں کی تھکن، باپ کی خاموش محنت اور اپنا ضمیر سامنے آ گیا۔ اس نے خود سے پوچھا اگر میں بھی وہی بن جاؤں تو مجھ میں اور مغرور میں فرق کیا رہ جائے گا۔۔
گھر پہنچا تو ماں نے گلے لگا لیا، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا، کسی نے کچھ نہ پوچھا۔ اس رات اس نے انتقام نہیں چنا مگر اس کی قیمت تھی، وہ دیر تک سو نہ سکا۔ تب اسے سمجھ آیا کہ یہ صرف ایک دن کی نہیں، ایک پورے نظام کی کالی ڈیوٹی ہے اور بعض اوقات سب سے مشکل ڈیوٹی انسان بنے رہنا ہوتی ہے۔
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
[email protected]
موبائل نمبر؛9622881110