عام طور پر کالم پلر کو کہا جاتا ہے ۔ لیکن صحافتی اصطلاح میں کالم اخباری صفحہ کا عمودی حصہ ہوتا ہے اور اس کی لمبائی اخباری صفحے کے برابر ہوتی ہے۔ اخباری مواد کو ان ہی کالموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر یہی مواد مستقلا ًکسی موضوع کے تحت شائع کیا جائے اور اخبار کے صفحے پر اس کی جگہ متعین ہو تو اس سے بھی کالم کہتے ہیں۔ کالم ایک ایسا صحافتی فیچر ہے ، جس میں کالم نویس منتخب موضوع پر اپنے مخصوص انداز میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کسی بھی معاملے کے اہم پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔
کالم، جدید صحافت کا اہم عنصر ہے۔ یہ انفرادی یا شخصی صحافت کی بہترین مثال ہے۔ اس لیے کالم نویسوں کو دانشور طبقہ کہا جاتا ہے جب کہ مغربی ممالک میں انہیں تیل چھڑک، ہرفن مولا ، روشن دان، نقاب کشا وغیرہ ناموں سے پکارا جاتا ہے اور امریکہ میں کالم نویس کو سیاسی پنڈت Political Pandit کہا جاتا ہے۔
اردو صحافت کا ابتدائی دور شخصی صحافت کا دور کہلاتا ہے۔ اخبار اپنے ایڈیٹر یا مالک کے نام سے فروخت ہوتے تھے۔ موجودہ دور میں ایڈیٹر یا مالک کی شخصیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کمی کو کالم نگار پورا کرتے ہیں۔ گویا شخصی صحافت کا نیا روپ کالم نویسی ہے۔ کالم نویس پوری ذمہ داری اور یقین کامل کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہیں ،کبھی وہ اشاروں اور کنایوں سے اپنی بات رکھتے ہیں اور کبھی واضح طور پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں کالم کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے تبھی تو آج کوئی بھی اخبار ایک یا دو کالم کے بغیر شائع نہیں ہوتا بلکہ بعض اخبار محض کالموں کی بدولت ہی پڑھے جاتے ہیں کیونکہ کالم نگار نہایت ہی عمدگی سے موضوع کے شش جہات کو پیش کرتا ہے۔ بہترین اشیا میں خامی ڈھونڈ تا ہے اور بے کار چیزوں کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی سوچ قارئین کو بہت پسند آتی ہے۔ قارئین کی سوچ و فکر میں توازن پیدا کرنا کالم کا اہم مقصد ہے۔ "کہا جاتا ہے کہ عوام کی آواز خدا کی آواز ہے اور اس آواز کو کالم کے توسط سے قارئین تک بہتر طور پر پہنچا یا جا سکتا ہے۔ "
زبان و بیان کی رو سے کالم کی دو قسمیں ہوتی ہے۔ سنجیدہ کالم اور مزاحیہ کالم ۔ موضوعاتی اعتبار سے اطلاعاتی کالم ،اشتہاری کالم اور مستقل کالم ہوتے ہیں۔ اطلاعاتی کالم کے تحت موسم کا حال ، اجناس کی نرخ ، مختلف ممالک کی کرنسی، سونے کا بھاو ، انتقال، نماز کے اوقات اور رمضان کے مہینے میں سحر و افطار کے اوقات بھی دے جاتے ۔ ایک ہی موضوع کے تحت مختلف اشتہارات کو یکجا کیا جاتا ہے۔ انہیں اشتہاری کالم کہہ سکتے ہیں۔ ان میں برائے فروخت، رہن ، ضرورت رشتہ شامل ہیں۔ گوکہ یہ کالم کسی کالم نگار کے زور قلم کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ انھیں سب ایڈیٹر یا شعبہ ادارت کے ارکان ترتیب دیتے ہیں۔ البتہ مستقل کالم کے تحت مذہبی کالم، طبی کالم ، قانونی کالم ،ذاتی کالم وغیرہ کالم نگار کے تحریر کردہ ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ سنڈیکیٹ اداروں سے موصولہ کالم بھی ہوتے ہیں جو اخبار کی زینت بنتے ہیں۔
اردو میں مزاحیہ کالم نگاری کا پلڑا ابتدا ہی سے بھاری رہا ہے بلکہ اردو میں کالم کو فروغ دینے میں مزاح نگاروں کا بڑا رول رہا ہے۔ آج بھی یہ کالم نگار بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ اس کالم کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔ موضوع کے مثبت پہلوؤں سے ہٹ کر منفی پہلوؤں پر کچھ اس ڈھنگ سے روشنی ڈالی جاتی ہے کہ پڑھنے والوں کو تفریح کا بہترین سامان مہیا ہوجاتا ہے ۔
کالم ایک تخلیقی فن ہے۔ کالم نویس میں جتنی تخلیقی صلاحیتیں ہوں گی اتنا ہی زیادہ دلچسپ اور مزے دار ہوگا ۔ ادق اور خشک موضوعات کو بھی کالم نگار پر کشش اور دلچسپ بنا سکتا ہے۔ چوں کہ کالم قارئین کے لیے لکھا جاتا ہے ،اس لیے عام فہم ، سادہ سلیس زبان اور دلچسپ و دلکش انداز بیان ضروری ہے ۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں سمجھانے کے فن سے کالم نگار کو واقف ہونا چاہیے۔ کیونکہ کالم کی شان اس کی آسان زبان اور دلچسپ بیان سے ظاہر ہوتی ہے۔ بات سے بات پیدا کرنا اور ہنساتے ہوئے چٹکیاں لینا کالم نگار کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ کالم کی تحریر کو جامع اسی وقت کہا جاتا ہے جب اسے ادق الفاظ، مبہم فقرے، نا قابل فہم تراکیب سے پاک کیا جائے۔ موضوع خواہ کتنا ہی ثقیل اور سنجیدہ کیوں نہ ہو۔ کالم کی چٹخارے والی زبان خشک اور بنجر موضوع کو سرسبز بنا دیتی ہے۔
کالم نگار کو معاملہ فہم اور متوازن شخصیت کا حامل ہونا چاہیے کیونکہ اس کی اپنی رائے سے سماج کا بہت بڑا طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ اعتدال پسندی، ضبط و تحمل اور مذہبی رہنماؤں کا احترام کرنا اس پر لازم ہے۔ چونکہ وہ عوام کا سچا دوست ہوتا ہے، اس لیے عوام کے جذبات، احساسات اور اعتقادات کا اسے پورا پورا خیال رکھنا ضروری چاہیے۔
( گلشن پورہ مرکنڈل بانڈی پورہ،رابطہ۔ 7889598823)