معاشی ناانصافی کے باعث صدیوں پرانی صنعت زوال کا شکار
پرویز احمد
سرینگر //محکمہ ہینڈی کرافٹس کے دعوئوں کے باوجود کشمیر میںشال بافی کی صنعت ہر گزرتے دن کے ساتھ دم توڑ رہی ہے۔ پچھلے 5برسوں کے دوران کشمیر میں پشمینہ اورشاہ توس تیار کرنے والی یا کاتنے خواتین کی تعداد میں 60فیصد کمی آئی ہے۔ پشمینہ اور کانی شال بنانے والے دستکاروں کا کہنا ہے کہ معقول اُجرت نہ ملنے کی وجہ سے شہری و دیہی علاقوں میں پشمینہ اورشاہ توس کاتنے والی خواتین کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے ۔ پشمینہ کاتنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اُن کی اجرت کے معاملے پر محکمہ ہینڈی کرافٹس خاموش ہے اور وہ مہنگائی کے اس دورمیں بھی روزانہ 50سے 100روپے ہی کماپاتی ہیں ۔ اس دوران محکمہ ہینڈی کرافٹس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ سرکار نے مزدوروں کیلئے روزانہ 311روپے کی مزدوری مقرر کی ہے اور اگر انہیں کوئی معقول مزدوری نہیں دے رہا ہے تو وہ ان کے خلاف محکمہ میں شکایت درج کرسکتے ہیں۔ پچھلے 900برسوں سے جموںو کشمیر میں اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی رہنے والی کشمیری دستکاریاں دن بہ دن دم توڑ رہی ہے۔ حکومت اور محکمہ ہینڈی کرافٹس کی کوششوں کے باوجود بھی وادی میں کشمیری قالین، شال، نمدہ سازی اور دیگر صنعتیں بحال ہونے میں بری طرح ناکام ہیں۔ حکومت کی جانب سے کشمیری دستکاریوں کی جی آئی ٹیگنگ سے کچھ بہتری تو آئی تھی لیکن ان دستکاریوں سے جڑے مرد و خواتین کی مالی حالت مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے یہ اب اپنی موت خود ہی مررہی ہیں۔ کشمیر میں پچھلے 5برسوں کے دوران پشمینہ شال بنانے کیلئے پشمینہ تیار کرنے والی خواتین کی تعداد میں بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔ہینڈی کرافٹس کی جانب سے کشمیر صوبے میں اس وقت 16ایسے مرکز موجود ہیں جہاں خواتین کو پشمینہ اور شاہ توس کاتنے کی تربیت دی جاتی ہے لیکن یہ بھی صورتحال کو بدل نہیں سکتا ہے۔ ایک پشمینہ تاجر رئوف احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ آج کے دوران میں بھی پشمینہ کاتنے والے خواتین کو ایک گانٹھ کیلئے 2روپے دئے جاتے ہیں اور اس طرح مشکل سے دن میں وہ 50سے 100روپے ہی کماتی ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب کمائی نہیں ہے تو پشمینہ کاتے گا کون؟ رئوف نے بتایا ’’معقول مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے وہ کام چھوڑ رہی ہیں اور نئی نسل کی کوئی بھی لڑکی پشمینہ یا شاہ توس نہیں کاتتی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا ’’ جب پشمینہ یا شاہ توس کا داگا تیار نہیں ہوگا تو ہم شال کس چیز کی بنائیں گے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’ پچھلے5برسوں کے دوران لگ بھگ 60فیصد خواتین نے پشمینہ کاتنا بند کردیا ہے‘‘۔ مذکورہ تاجر نے کہا کہ پلوامہ میں قریب 1000خواتین پشمینہ اورشاہ توس کاتتی تھیں لیکن اب وہاں بھی صرف 450خواتین ہی رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال لگ بھگ 20فیصد خواتین معقول مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے کام چھوڑ دیتی ہیں۔ روف کا کہنا ہے ’’دستکاروں کو معقول مزدوری ملنی چاہئے۔ ہمارے پاس ہینڈی کرافٹ کیلئے کوئی ایکٹ نہیں ہے، اب محکمہ سیاحتی ایکٹ کے اطلاق کی بات کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ 900سال پرانی دستکاریوں کیلئے کوئی بھی ایکٹ موجود نہیں ہے لیکن خانہ پوری کرنے کیلئے محکمہ دیگر قوانین کی بات کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو دستکار اچھا کماتا ہے اور نہ ہ مزدور معقول کمائی کرپاتا ہے۔ ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس مسرت الاسلام کا اس ضمن میں کہناہے ’’ ہم نے پشمینہ اور شاہ توس کاتنے کی تربیت دینے کیلئے 16سنٹر کھول رکھے ہیں جہاں خواتین کو تربیت دی جاتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہرسنٹر میں 20 خواتین کو تربیت دی جاتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ’’ ہم نے ان کو روایتی نہیں بلکہ جدید اور ماڈرن چرکھے فراہم کئے ہیں۔ مسرت کا کہنا ہے کہ دستکاروں کا ماحول ایسا بنا ہے کہ یہ کسی اورکے ذریعے کام کرتے ہیں جو انہیں کچھ نہیں دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے ان کی کم سے کم روزانہ مزدوروی 400سے 450طے کررکھی ہے جبکہ لیبرقوانین کے تحت بھی کم سے کم یومیہ مزدوری 311روپے ہیں اور اس سے کم کوئی ان سے کام نہیں لے سکتا۔ ڈائریکٹر ہنڈی کرافٹس نے بتایا ’’ اگر کوئی ان خواتین کا استحصال کرتا ہے تو ہمارے محکمہ کے پاس شکایت درج کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ہمارا محکمہ شکایت ملتے ہی کاروائی کرے گا کیونکہ ہماری کوشش ہے کہ دستکاریاں بحال ہوجائیں‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے محکمہ نے نمدے ،غبہ سازی اور دیگر دستکاریوں کو کسی حد تک بحال کیا ہے اسی طرح شال صنعت کو بھی بحال کیا جائے گا۔