یو این آئی
نئی دہلی//اروناچل پردیش میں 40 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت والے دو پن بجلی منصوبوں (ہائیڈرو پاور پروجیکٹس) کو بدھ کے روز مرکزی کابینہ کی منظوری مل گئی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل یہاں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے سرمایہ کاری کی دونوں تجاویز کو منظوری دی۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے کابینہ کے اجلاس کے بعد بتایا کہ 1720 میگاواٹ کے کملا پن بجلی منصوبے کے لیے 26,069.50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کو این ایچ پی سی کے ذریعے اروناچل پردیش حکومت کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر مکمل کیا جائے گا۔ انجا اضلاع میں لوہت ندی پر 1200 میگاواٹ کے کلائی-2 پن بجلی منصوبے کے لیے 14,105.83 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو بھی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر 78 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ان دونوں منصوبوں کے علاوہ ریاست میں اس وقت 2000 میگاواٹ کا سبنسری لوئر اور 2,880 میگاواٹ کا دیبانگ کثیر المقاصد پن بجلی منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ کابینہ نے جے پور میٹرو کے مرحلہ دوم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس کے تحت پرہلادپورہ سے ٹوڈی موڑ تک 41 کلو میٹر طویل شمال-جنوب راہداری تعمیر کی جائے گی، جس میں 36 اسٹیشن شامل ہوں گے، اور اس کی کل لاگت 13,037.66 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے اس منصوبے کو راجستھانمیٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جو حکومتِ ہند اور حکومتِ راجستھان کا 50:50 مشترکہ ادارہ ہے۔
یہ راہداری سیتاپورا صنعتی علاقہ، وی کے آئی اے، جے پور ہوائی اڈہ، ٹونک روڈ، ایس ایم ایس اسپتال و اسٹیڈیم، امبا باری اور ودیادھر نگر جیسے اہم مقامات کو باہم مربوط کرے گی۔ اس میں ہوائی اڈے کے علاقے میں زیرِ زمین اسٹیشن بھی شامل ہوں گے اور اسے پہلے مرحلے کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ پورے شہر میں ایک مربوط اور مسلسل میٹرو نظام قائم ہو سکے۔اس وقت جے پور میٹرو کے پہلے مرحلے میں روزانہ تقریباً 60 ہزار مسافر سفر کرتے ہیں، جو 11.64 کلو میٹر طویل ایک اہم راہداری پر مشتمل ہے۔ مرحلہ دوم کے آغاز کے بعد مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے عوامی نقل و حمل کے استعمال میں اضافہ اور نجی گاڑیوں پر انحصار میں کمی آئے گی۔اس منصوبے کا مختلف سطحوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، جس میں بین الوزارتی مشاورت، نیٹ ورک پلاننگ گروپ کی جانچ اور عوامی سرمایہ کاری بورڈ کی منظوری شامل ہے۔ اس منصوبے کی معاشی داخلی شرحِ منافع مقررہ حد سے زیادہ ہے، جو اس کی مضبوط معاشی اور سماجی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔