جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے ڈی ڈی سی ممبران، بی ڈی سی نمائندگان اور سرپنچوں نے پیر پنجال خطے میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا پْرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے سے اعلیٰ قانونی تعلیم کے میدان میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ جغرافیائی اور اسٹریٹجک اعتبار سے پیر پنجال کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔مینڈھر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پیر پنجال کے نوجوانوں میں قانونی تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور صلاحیت موجود ہے، مگر مناسب تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی کے باعث انہیں جموں، کشمیر اور ملک کے دیگر دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف والدین کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے بلکہ کئی ذہین اور باصلاحیت طلبہ مجبوری کے تحت اعلیٰ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام پیر پنجال کے عوام کا آئینی اور جائز حق ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خطے کے ساتھ روا رکھی جانے والی تعلیمی ناانصافی کا خاتمہ کرے اور فوری و ٹھوس اقدامات کے ذریعے یہاں نیشنل لا یونیورسٹی قائم کرے۔ڈی ڈی سی ممبر عمران ظفر، امان اللہ چوہدری، مصطفی چوہدری (پی ڈی پی لیڈر) اور شریف چوہدری سابق سرپنچ سمیت دیگر نمائندے موجود تھے۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ پیر پنجال ایک حساس سرحدی علاقہ ہے اور یہاں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام نہ صرف تعلیمی ترقی بلکہ سماجی استحکام، قانونی شعور اور امن و انصاف کے فروغ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی پالیسیوں میں پیر پنجال کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ وادی کشمیر اور جموں کے دیگر علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔ مقررین کے مطابق اگر پیر پنجال میں نیشنل لا یونیورسٹی قائم کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مقامی طلبہ کو فائدہ ہوگا بلکہ پورے خطے میں انصاف کے نظام کو مضبوطی ملے گی۔