جموں//عام آدمی پارٹی نے بدھ کے روز محکمہ جل شکتی کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی حالت زار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے انہیں خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور حکومت کے غیر حساس رویہ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان ملازمین کو دیوالی جیسے اہم تہوار پر بھی اجرت نہ دی گئی جس کے چلتے انہوں نے کالی دیوالی منائی ہے۔عام آدمی پارٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ جل شکتی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومت کے مختلف دیگر محکموں کے یومیہ اجرت والے طویل عرصے سے احتجاجی دھرنے پر ہیں لیکن جموں و کشمیر حکومت ان کے معاملے پر پوری طرح سے بے حس ہے اور ان کی شکایات اور مطالبات کے ازالے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے جو مکمل طور پر حقیقی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین مہینوں سے احتجاج پر ہیں اور وہ اپنے حقیقی مطالبات پیش کر رہے ہیں جن میں تنخواہوں کی ادائیگی اور ریگولرائزیشن بھی شامل ہے لیکن یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر حکومت ترقی کے ڈھول پیٹنے میں اس حد تک ناکام رہی ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں ملازمین کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتی۔ پارٹی نے کہا کہ دیوالی پر ان ملازمین کو ان کی تنخواہوں سے محروم کرنا کالی دیوالی لانے کے مترادف ہے اور جموں و کشمیر حکومت نے ان یومیہ اجرت والوں کے لیے ایسا کیا۔ عام آدمی پارٹی نے سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف تو جموں و کشمیر میں ہزاروں کروڑ کی سرمایہ کاری اور مناسب فنڈنگ کی تشہیر کر رہی ہے لیکن دوسری طرف یومیہ اجرت والوں کو تنخواہیں دینے میں بھی ناکام رہی ہے ۔ عام آدمی پارٹی جموں کشمیر میں اقتدار میں آنے کے بعد یومیہ اجرت والوں کے لیے ریگولرائزیشن کی پالیسی کے ماڈل کو عمل میں لانے کا اعادہ کیا۔