ڈھاکا// بنگلادیش کے دارالحکومت کی 3 بڑی تجارتی مارکیٹوں میں لگنے والی آگ میں 3 ہزار سے زائد دکانیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ آگ اتنی خوفناک تھی کہ 50 فائر بریگیڈ کی گاڑیوں اور 600 فائر فائٹرز بھی اس پر قابو پانے میں ناکام رہے اور آگ آس پاس کی دیگر دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہی۔جس پر فوج کو طلب کیا گیا اور آرمی کے ریسکیو ہیلی کاپٹر نے امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے کیمیکل چھڑک کر آگ پر قابو پانے میں مدد کی۔ 8 گھنٹے سے زائد کی انتھک محنت کے بعد آگ کو بجھا لیا گیا۔منگل کی علی الصبح لگنے والی اس آگ میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ملک کی مشہور کپڑا مارکیٹوں کے گڑھ بنگا بازار کے تنگ اور پرہجوم علاقے میں آگ کے شعلے تیزی سے پھیلنے کے بعد فوج کے جوانوں کو مدد کے لیے بلایا گیا تھا۔ہیلی کاپٹر سے ملنے والی فضائی فوٹیج میں سیکڑوں افراد کو قریبی بائی پاس پر کھڑے ہو کر آگ پر قابو پانے کی کارروائی کا مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ایک عہدیدار نے کہا کہ آگ سے زیادہ تر دکانیں جل کر راکھ ہو گئی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ کیا کچھ لوگ اندر پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ آگ صبح علی الصبح لگی تھی اور زیادہ تر دکانیں اس کے بعد کھلتی تھیں۔فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے مزید بتایا کہ دھوئیں نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کمپلیکس سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے، جس سے بچاؤ کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی۔ایک متاثرہ دکان کے مالک عبدالمنان نے اپنے رشتہ داروں سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی، میری دکان میں موجود ہر چیز جل کر خاکستر ہو گئی ہے، یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ڈیلی اسٹار اخبار کی رپورٹ کے مطابق بنگا بازار کے دکانداروں نے، جس میں زیادہ تر کپڑے کی دکانیں ہیں، عید کے تہوار کی تیاریوں کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا، اور ان کا زیادہ تر سامان آگ میں جل کر تباہ ہو گیا۔
ایک کاروباری مالک نے بتایا کہ میں نے عید کے سیزن کی مناسبت سے کپڑے خریدنے کے لیے 15 لاکھ ٹکا (14 ہزار 100 ڈالر) ادھار لیے تھے لیکن میں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ملک میں صنعتی آتشزدگی کے لیے کمزور قواعد و ضوابط اور ناقص نفاذ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سیکڑوں اموات ہوئیں۔یہ مارکیٹ کٹ پرائس پر مغربی فیشن برانڈز جیسا کہ ٹومی ہِلفیگر کے لیے ایک مقبول منزل تھی، جہاں شہر کی گارمنٹ فیکٹریوں میں تیار کیے گئے وہ کپڑے فروخت کیے جاتے تھے جو برآمدی معیارات کو پورا کرنے میں ناکام ہوں۔