ترال// سب ضلع ترال میں قائم 8ہائر سکنڈری سکولوں سے کامیاب ہوئے سینکڑوں طلباء کے لئے ڈگری کالج ترال کو محکمہ اعلی ٰ تعلیم کی جانب سے کل480نشستیں فراہم کی گئی ہیں جس کی وجہ سے سب ضلع کے سینکڑوں طلباء کایہاں داخلہ نہیں ہوسکا اور علاقے کے غریب گھرانوں کے بچوں کے لئے تعلیم کے دروازے بند ہوئے ہیں ۔علاقے سے تعلق رکھنے والے طلباء نے بد ھ کے روز بتایا کہ پہلے یونیورسٹی ویب سائٹ جہاں پر وہ ایڈمشن کرتے تھے ،کئی روز خراب رہی ۔ انہوں نے بتایااب جب وہ ٹھیک طرح سے چل رہی ہے تو انہیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں جتنے بچوں کو داخلہ دینا تھا ،وہ مکمل ہوا ہے جس کے بعد کسی بھی طالب علم کو ترال کالج میں داخلہ نہیں مل سکتا ہے ۔تبسم نامی ایک طالبہ نے بتایا ترال کالج ہمارا نزدیکی کالج ہے جہاں ہم تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔انہوں نے بتایا اب ان کی نظر اونتی پورہ اور پلوامہ کے کالجوں پر تھی تاہم اونتی پورہ میں وہ سٹریم نہیں ہے جو انہوں نے آج تک پڑھی تھی جبکہ پلوامہ کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا ہے جس کے باعث یہ طلاب سخت ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ ایک اور طالب علم ریاض احمد نے بتایا ہم ترال سے 25کلو میٹر دور رہتے ہیں جہاں ترال کالج تک پہنچنا ہمارے لئے نا ممکن تھا ۔اب اگر اسی کالج میں ہمیں داخلہ نہیں ملا تو ان کے پاس تعلیم کو خیر باد کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس حوالے سے کالج میں تعینات ایک پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طلباء کی شکایت درست ہے کیوں کہ انہیں اعلیٰ تعلیم محکمہ کی جانب سے کالج میں صرف480طلباء کوداخلہ دینے کے لئے نشستیں فراہم کی گئی ہیں اور جو طلباء پہلے داخلہ فارم بھر سکے ، ان کاداخلہ ہوا ہے ۔انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ابھی طلباء کی ایک بڑی تعداد داخلہ کے بغیر ہیں لیکن کالج انتظامیہ انہیںکسی طرح کی مدد نہیں کر سکتی ۔ادھر علاقے کی کئی سماجی اور رضا کار تنظیموں نے اعلیٰ تعلیم کے افسران کے اس فیصلے کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ۔