رام بن //ڈویژنل کمشنر سنجے ورما نے انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں ایس ڈی سنگھ جموال کے ہمراہ ضلع میں قومی شاہراہ 44-کا دورہ کیااور سول، پولیس ،سی آر پی ایف اور فوجی افسروں کے ہمراہ آنے والے شری امر ناتھ جی یاترا 2018 کو پُر امُن اور احسن طریقہ سے منعقد کرنے کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ڈویژنل کمشنر کے ہمراہ اے ڈی ڈی سی رام بن رویندر سادھو،ایس ایس پی رام بن موہن لعل، اے ڈی سی رام بن ڈاکٹر گورویندر جیت سنگھ ،ڈپٹی کمانڈنٹ 84 بٹالین سی آر پی ایف یش پال تھاپا و دیگر متعلقہ محکموں کے سول افسراں بھی تھے۔انہوں نے NH44پر ناشری سے جواہر ٹنل تک قائم کئے گئے متعدد لنگروں کا معا ئینہ کیا اور منیجروں سے تبادلہ خیال کیااور انہیں لنگروں میں صحت و صفائی، حفظان صحت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔انہوں نے ناشری میں لنگر کے باہر ایک پودا بھی لگایا ۔ڈویژنل کمشنر اور آئی جی پی نے سی آئی ایف(ڈیلٹا) ہیڈ کوارٹر پر جی او سی ،سی آئی ایف (ڈیلٹا) میجر جنرل راجیو نندا کے ساتھ یاترا کے سیکورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔اے ڈی ڈی سی نے ڈویژنل کمشنر کو یاتریوں کی سہولیت کے لئے مختلف محکموں کی جانب سے کئے گئے انتظامات کی جانکاری بھی دی۔ڈویژنل کمشنر نے ا فسروں سے ایمر جنسی کنٹرول نمبرات کے ساتھ موثر میکنزم قائم کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کسی بھی امکانی ہنگامی حالت سے نمٹنے کیلئے کامیاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ پر زور دیا ۔ڈویژنل کمشنر نے ا فسروں پرزور دیا کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق انتظامات یقینی بنائیں تاکہ یاتریوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات پیش نہ آئے۔انہوں نے ضلع انتظامیہ کویاتریوں کے لئے مقرر کرہ مقامات پر ایکموڈیشن قائم کرنے اور لنگر کے مقامات پر عارضی ٹائیلٹ قائم کرنے کے علاوہ بغیر کسی خلل کے بجلی اور پانی کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ڈویژنل کمشنر نے قومی شاہراہ پر جاری چار لین کام کام کا بھی جائزہ لیااور متعلقہ محکمہ کو شاہراہ پر ٹریفک کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔انہوں نے ناشری سے جواہر ٹنل تکNH44 پر تمام حساس موڑوں پر یاتریوں کو بغیر کسی پریشانی کے سفر کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کنسٹریکشن کمپنیوں سے قومی شاہراہ کے خطر ناک مقامات پر کرئیش بئیر ئیر نصب کرنے، سڑک پر پانی کا چھڑکائو اور اہم نمبرات کے ساتھ سائن بورڈنصب کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کنسٹریکشن کمپنیوں سے تعمیر میں در پیش روکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے قریبی تال و میل بنائے رکھنے کی ہدیات دی، تاکہ ان پروجیکٹوں کو فوری طور تکمیل یقینی ہو سکے۔