متعددرابطہ سڑکیں زیر آب، نکاسی کے ناقص نظام پر عوامی حلقوں میں غم و غصہ
اشتیاق ملک
ڈوڈہ // ضلع ڈوڈہ کے بالائی علاقوں میں جمعرات کے روز بعد دوپہر موسم نے اچانک کروٹ لی، جس کے نتیجے میں شدید ژالہ باری اور موسلا دھار بارش ہوئی۔ شدید بارش و ژالہ باری سے جہاں معمولات زندگی متاثر ہوئی وہیں زرعی شعبے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کو بعد دوپہر ضلع ڈوڈہ کی سب ڈویژن گندوہ ،ٹھاٹھری ،بھدرواہ و دیگر مضافات کے بالائی علاقوں میں ژالہ باری و سے کھڑی فصلوں، سبزیوں اور پھلدار درختوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور موسلا دھار بارش کے باعث رابطہ سڑکیں، گلی کوچے اور کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔متعدد مقامات پر پانی رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہو گیا۔خراب موسم کے ساتھ ہی بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہو گیا، جبکہ کئی دیہات میں پینے کے پانی کی پائپ لائنیں متاثر ہونے سے سپلائی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔مقامی لوگوں نے ضلع کی اہم سڑکوں پر نکاسی کے نظام کے غیر فعال ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ تعمیراتی ایجنسیوں کی لاپروائی کی وجہ سے بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے، جو نہ صرف راہگیروں اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ قریبی بستیوں کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ نکاسی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔ایک مقامی شہری محمد سلیم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ معمولی بارش ہوتے ہی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں اور پانی لوگوں کے گھروں میں گھس جاتا ہے، لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ سمیت اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکوں پر نکاسی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔متاثرہ علاقوں کے عوام نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ژالہ باری سے ہوئے نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ کسانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے نکاسی نظام کو ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے۔