ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے بالائی علاقوں میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفہ وقفہ سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ سمیت متعدد سڑکوں پر پسیاں گرنے کا عمل شروع ہوا اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک نظام معطل رہا۔ موسلا دھار بارش سے رابطہ سڑکیں مزید خستہ حال ہوئی ہیں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پانی و بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے سے متعدد دیہات میں پانی و بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس دوران گذشتہ روز کاہرہ کے گوئلہ گاؤں میں پتھر گرآنے کی وجہ سے ایک رہائشی مکان تباہ ہوا ہے تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز بھی گندوہ، بھلیسہ، بونجواہ ،ٹھاٹھری ،بھدرواہ ،گندنہ و دیگر مضافات میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث عوامی زندگی بری طرح مفلوج ہوئی ہے۔ مسلسل بارشوں سے جمعہ و ہفتہ کی شب ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر مچھی پال کے نزدیک بھاری پسی گرآئی جس کے نتیجے میں تین گھنٹوں تک ٹریفک نظام معطل رہا۔وہیں گندوہ جائی سڑک پر بھی چنوری نزدیک پسیاں گرآئیں اور دوندی بونجواہ سڑک پر بھی پتھر گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ موسلا دھار بارشوں سے سب ضلع ہسپتال گندوہ و ریونیو کمپلیکس کو جارہی سڑک بھی زیر آب آگئی ہے۔ بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ چیئرمین محمد حنیف ملک نے تعمیراتی ایجنسیوں و انتظامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تعمیراتی محکموں کی ناقص کارکردگی و انتظامیہ کی عدم توجہی سے عام آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر کروڑوں روپے کی رقم صرف کی گئی لیکن چھتیس کلومیٹر میں سے ابھی بھی دس کلومیٹر شاہراہ پر تار کول نہیں بچھائی گئی ہے اور نصف حصے پر نکاسی نظام کا بھی معقول انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مقام گندوہ و سب ضلع ہسپتال کی طرف جارہی سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور انتظامیہ کے اعلیٰ آفیسروں کا روزانہ اسی راستے سے گذر ہوتا ہے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بی ڈی سی چیئرپرسن گندوہ چوہدری محمد حنیف، بی ڈی سی چیئرپرسن چنگا محمد عباس راتھر، بی ڈی سی چیئرپرسن جکیاس آمینہ بیگم، بی ڈی سی چیئرپرسن چلی چوہدری مخو بیگم و بی ڈی سی چیئرپرسن کاہرہ فاطمہ چوہدری نے مقامی و ضلع انتظامیہ سے پانی، بجلی و سڑک رابطوں کی بحالی و فصلوں، پھلوں، تعمیرات و زرعی اراضی کو پہنچے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کو معقول معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔