افسانہ قاتل : بقول ڈاکٹر مشتاق احمد وانی صاحب "اگر اس افسانہ قاتل کا عنوان قاتلہ رکھا گیا ہوتا تو بہتر رہتا کیوں کہ یہاں ایک عورت قاتلہ کے روپ میں ہمارے سامنے آتی ہے " حالانکہ راقم کو اس بات سے اتفاق نہیں کیوں کہ اگر افسانے کا عنوان بدل کر قاتلہ رکھا گیا ہوتا تو افسانے کا سارا تجسس و کیف ختم ہو جاتا "
سدھا اپنے شوہر"رنبیر "سے تنگ آکر اسے قتل کردیتی ہے صرف اس غرض سے کیوں کہ وہ شراب اور شباب کا رسیا ہوتا ہے جو گھریلو ذمہ داریوں کے احساس سے عاری ہوتا ہے اور پولیس کو بھی اس بات کا انکشاف ہوتاہے کہ" رنبیر" کا قتل اس کی بیوی سدھا نے ہی کیا ہے لیکن پھر بھی وہ سدھا کو گرفتار نہیں کرتے ۔کیوں کہ سدھا نے پولیس کے کھانے پینے کا انتظام پہلے ہی کیا ہوتا ہے۔ افسانہ سرجو کہتے ہیں نا "خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں "
اس افسانے میں ایک دھوکے باز شخص کو موضوع بنایا گیا ہے جو کہ" کلیم صاحب" جیسے ایماندار ،رحم دل اور نیک انسان کو دھوکہ دیتا ہے ایک دن سرجو نام کا ایک شخص ان کی دکان کے پاس آکر ٹھہر گیا تو کلیم صاحب ان کی حالت دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔کلیم صاحب اپنی دکان سے باہر نکلے اور اس شخص کو دکان کے اندر لے گئے اور بٹھاتے ہوئے اسے ایک گلاس ٹھنڈا پانی دیا ،مسافر پانی پیتے ہی تروتازہ ہوگیا تو کلیم صاحب نے اس سے پوچھا:بھئی!تم کون ہو ؟کہاں سے آئے ہو"؟
مسافر نے جواب دیا"میں سونا پور گاؤں سے آیا ہوں۔ گاؤں میں آکال پڑگیا تھا میرے گھر کے سبھی لوگ آکال اور بھوک کی وجہ سے مرگئے ، اس لیے مجھے گاؤں چھوڑ کر شہر کی طرف آنا پڑا، پھر کلیم صاحب کی طرف دیکھا اور کہا صاحب اگر مجھے کوئی کام کاج مل جائے تو۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ایک دن کلیم صاحب سرجو کے بھروسے پہ تجارت کے کام سے دہلی جاتے ہیں اور سرجو سے کہتے ہیں کہ میری غیر حاضری میں گھر اور دوکان تمہارے ذمے ہیں ۔
سرجونے سر جھکاتے ہوئے کہا ،جی صاحب میں نے آپ کا نمک کھایا ہے ۔میں جی جان سے آپ کے نمک کا قرض ادا کروں گا اور اپنا فرض بھی نبھاؤں گا ۔
کلیم صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا مجھے تم سے یہی امید تھی کہتے ہوئے دلی کے لیے روانہ ہو گئے "
لیکن "سرجو" ان کے بھروسہ کوتوڑ دیتاہے ،سرجو انکی دکان سے بہت سارا سامان بیچ دیتاہے یہاں تک کہ سرجوکلیم صاحب کے نام پر اُدھار لیتاہے اور پڑوسی کی لڑکی کو بن بیاہی ماں بنا کر سب کو دھوکا دے کر رفوچکر ہوجاتا ہے۔
افسانے کا مطالعہ کرنے کے بعد قاری کے ذہن میں اس بات کا یقین پیدا ہوجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ دیر سویر برے کام کرنے والے کو اسکے برے کاموں کی سزا اسی دنیا میں دیتاہے ۔ تبھی افسانے کے اختتام پر کلیم صاحب کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا: خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ وہ دنیا میں ہی سزا دیتاہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں۔"
افسانہ "چھوٹی سی محبت " اس کے مرکزی کردار "نجمہ" اور" محسن "ہیں محسن ایک سنجیدہ لڑکا ہوتا ہے ۔ اپنی سنجیدگی اور خوب سیرت کی وجہ سے نجمہ اور اسکی ماں کو بہت پسند آتا ہے ۔ چونکہ نجمہ دل ہی دل میں محسن سے بہت محبت کرتی ہے اور اس سے شادی کرنے کا خواب بھی دیکھتی ہے لیکن کون جانے قسمت میں کیا لکھا ہے۔ اچانک ایک دن نجمہ کی ماں بہت بیمار پڑ جاتی ہے تو وہ محسن کو اپنے پاس بلاکر اسے اپنی بیٹی کا خیال رکھنے کی وصیت کرتی ہے، ماں کی وفات کے بعد محسن "نجمہ "کا ہر طرح سے خیال رکھتا ہے لیکن وہ اسے اپنی شریک حیات بنانے کے بجائے "سلمان" نام کے ایک لڑکے سے اس کی شادی کرانا چاہتا ہے مگر "نجمہ" کو یہ منظور نہیں ہوتا، وہ اپنے دل میں چھپی محبت کا اظہار محسن سے کرتی ہے لیکن محسن نجمہ کی محبت کو قبول نہیں کرتے کیونکہ محسن عمر میں نجمہ سے اٹھارہ سال بڑا ہوتا ہے اور وہ پہلے ہی سے شادی شدہ ہوتا ہے جسکا انکشاف افسانے کے آخری اقتباس میں اسطرح کیا گیا ہے۔
’’ہارن بجاتی ہوئی گاڑی گھر کی پارکنگ میں آکر رُکی اور کار سے دو چھوٹے بچے اترے اور ممامما کہتے ہوئے گھر کے اندر دوڑتے چلے گئے مما!مما! دیکھو پا پا نے ہمیں کتنی ساری چیزیں خرید کر دیں، بچوں نے ہنگامہ کرتے ہوئے کہا۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے لیکن تمہارے پاپا ہیں کہاں؟ آشا نے بچوں سے پوچھا۔
ہم آپ کو چھوڑ کر کہاں جاسکتے ہیں ؟ یہ کہتے ہوئے محسن آشا کے پاس آگیا اور آشا کو گلے سے لگاتے ہوئے پیار سے بولا" میری پیاری پگلی "
افسانہ چال : میں جو قصہ پیش کیا گیا ہے وہ ہمارے موجودہ دور کے معاشرے کا ابھرتا ہوا ایک اہم مسلہ ہےکرن "جوکہ" وسیم" کی بیوی ہوتی ہے وہ نہیں چاہتی کہ میرا شوہر ہر کام کی اجازت اپنی ماں سے لے اس بات پر وہ اپنے شوہر سے خفا ہو جاتی ہے اور اپنے میکے چلی جاتی ہے اور اپنی ماں سے مشورہ کرتی ہے۔ تو ماں اپنی بیٹی کو ایسی تربیت دیتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی ساس کی خدمت میں لگ جائے اور اپنے شوہر" وسیم "کی طرف کوئی توجہ نہ دے، اس طرح وسیم تنگ آکر اپنی ماں سے کنارہ کشی اختیار کر لے گا ۔ کرن
کو اپنی ماں کا یہ مشورہ بہت پسند آجاتاہے اور اسطرح کرن ہر وقت ساس کی خدمت کرنے لگتی ہے جسکا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ وسیم تنگ آکر اپنی ماں کو اولڈ ایج ہوم میں پہنچا دیتا ہے اور کرن کی ماں کا مشورہ جب ایک کامیاب چال کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو وہ اپنی ماں کو ان الفاظ میں خوشخبری سناتی ہے۔
مبارک ہو ممی ! آپ کی چال کامیاب رہی ۔بڑھیا ہمارے پلان کے مطابق اولڈ ایج ہوم جاچکی ہے ۔ بڑھیا کی خدمت کرتے کرتے تو میرے ہاتھ پیر تھک گئے تھے لیکن ممی ! آپ کا پلان واقعی solid تھا اب اتنے بڑے گھر کی میں اکیلی رانی ہوں، اب صرف میرا ہی حکم چلے گا۔ورنہ وہ بڑھیا تو میری آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی ممی! آپ نے اس بڑھیا کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال دیا، میں وسیم کی نظروں میں خدمت گزار بہو ثابت ہوئی اور وہ بے وقوف ہماری چال کو سمجھ بھی نہ سکا۔ آپ نے صیح کہا تھا ممی ! سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی" اور زور زرو سے کرن اور اسکی ماں ہنسنے لگیں"
افسانہ پچھتاوے کا بھنور : اس افسانے میں نعیم کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔
نعیم اپنی بیوی "رخسانہ "اور بچوں سے بہت محبت کرتا ہے لیکن ایک دن انکی پوسٹنگ الہ آباد میں ہو جاتی ہے اور وہ وہاں" ماریہ "نام کی لڑکی سے محبت کرتا ہے اس کی خاطر وہ اپنی بیوی کو طلاق لکھ کے بذریعہ ڈاک بھیج دیتاہے۔ " رخسانہ" بہت پریشان ہو جاتی ہے لیکن انکی پڑوس "رحیمن بوا" اس سے جینے کا سہارا دیتی ہے ۔ادھر بچوں کی فیس ادا نہ ہونے پر انہیں اسکول سے نکال دیا جاتا ہے ۔"رخسانہ "پرنسپل صاحب کو اپنی رو داد غم سناتی ہے تو پرنسپل صاحب اس پر رحم کھا کے اس سے اسکول میں نوکری دیتاہے پرنسپل صاحب "رخسانہ" کی محنت و مشقت، رحم دلی، برتاؤ اور اخلاق سے کافی متاثر ہوتا ہے تو پرنسپل صاحب رخسانہ کو کہتاہے ۔
میڈم رخسانہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں اگر آپ برا نہ مانیں تو ۔
جی سر ! ضرور کہیے
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔پرنسپل صاحب نے کہا :‘‘
اس سے پہلے کہ رخسانہ کچھ کہہ پاتی ، پرنسپل صاحب نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔دراصل میری بیوی کے انتقال کو چھ سال گزر گئے لیکن میں نے ابھی تک اس ڈر سے شادی نہیں کی کہ کہیں سوتیلی ماں میرے بچوں پر ظلم نہ کرے ۔لیکن جب سے تمہیں دیکھا ہے میرا خیال ہے کہ تم میرے بچوں کی ماں بن سکتی ہو ۔دیکھو رخسانہ! اس سے میرے بچوں کو تمہاری شکل میں اچھی ماں مل جائے گی اور تمہارے بچوں کو باپ ۔اور ہم دونوں بھی ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں گے رخسانہ تمہارا خیال کیا ہے ؟
رخسانہ آنکھوں میں خوشی کے آنسو لئے صرف ہاں میں سر ہلا پائی "۔
ادھر نعیم "ماریہ" کو شادی کی بات کہتاہے تو ماریہ اسے ایک خودغرض بے وفا شوہر خیال کرتی ہے اور تلخ انداز میں کہتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
نہیں مسٹر نعیم ! تم نے اپنی خاطر اپنے پریوار کو چھوڑا ہے ۔تم جیسا خودغرض انسان کبھی کسی سے محبت نہیں کرسکتا ۔آج تم نے اپنی چہیتی فرما بردار بیوی اور بچوں کو میری خاطر چھوڑ دیا ہے کل تم مجھے کسی اور کی خاطر چھوڑ دو گے ؟ ہے نا !مانا کہ طلاق مردوں کا حق ہے وہ جب چاہے بغیر کسی گناہ کے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے لیکن پھر بھی میں تم پر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ تم دھوکے باز ہو !تم جیسا آدمی کبھی کسی سے محبت نہیں کرسکتا اور میں تم جیسے آدمی سے شادی نہیں کرسکتی"
اپنا سب کچھ تباہ وبرباد کرنے کے بعد نعیم کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتاہے اور وہ اپنی بیوی بچوں سے معافی مانگنے جاتاہے لیکن اپنی بیوی بچوں کو گھر میں نہ پاتے ہوئے پڑوسی" رحیمن بوا "کے پاس جاتاہے تو "رحیمن بوا "کہتی ہے کہ تیرے جانے کے بعد رخسانہ اور بچوں کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔ تبھی پرنسپل صاحب نے رخسانہ سے شادی کی اور بچوں کو بھی اپنا لیا تو نے بہت دیر کردی آنے میں۔ یہ سنتے ہی نعیم کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور اسکی کشتی پچھتاوے کے بھنور میں ہچکولے کھانے لگی بقول شاعر
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
الغرض ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ اکیسویں صدی کی ایک اُبھرتی ہوئی افسانہ نگار ہیں ۔ ان کے افسانوں میں موجودہ دور کی زوال پزیر اخلاقی قدریں ، لالچ ،فریب، دکھاوا، دھوکہ دہی ، مکاری، سماجی مسائل اور عورتوں کی نفسیاتی کشمکش جیسے موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ان کے افسانوں کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ جس سے عام قاری کو اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔
(ریسرچ اسکالر شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری)
فون نمبر 9797864093