اس بات پر انسان کا مکمل ایمان ہے کہ اُس کی زندگی اور اُس کی موت اُسی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو اِس کائنات کا خالق و مالک ہےاور جس کے ہم سب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو بحیثیت بندہ جہاں بہت سی نعمتوںسے نوازا ہے،وہیں اُس پر کئی ذمہ داریاں بھی ڈال دی ہیں۔ جن کے تحت وہ انسانیت کے اصولوں کو وسعت دیتا ہے، میانہ روی اختیا ر کرتا ہے، دوسروں کو فائدہ پہونچانے کی کوشش کرتا ہے، اپنا مال مناسب طریقے پر استعمال کرکے دوسروں کی بھلائی کرتا ہے،کمزوروں کی مدد کرتا ہے اورگمراہوں کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔لیکن جو انسان اس کے برعکس کرتا ہے ،انسانیت کے حدود کو پھلانگ دیتا ہے ،ہر معاملے میں من مانیاں کرتا رہتا ہے،دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہےاور اچھے کاموں کے لئے آگے نہیں بڑھتا ہےتووہ گمراہ کہلاتا ہے اوراُسے بالآخر اپنے کرموںکا نقصان خود ہی اٹھانا پڑتاہے۔ظاہر ہے کہ انسانی خدمت کیلئے ایک بڑی ذمہ داری ڈاکٹروں کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے، لیکن افسوس ہورہا ہے کہ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر ڈاکٹر اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نہیں نبھاتے ہیں۔
جس کے نتیجے میں ہمارے بہت سارے سرکاری طبی مراکز کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ روزانہ بہت سارے غریب مریض سرکاری ہسپتالوں کے عملے ، ڈاکٹروں کی غفلت ، دوائوںکی عدم دستیابی اور دوسری کئی وجوہات کی بناءپر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اگرچہ بعض ڈاکٹر صاحبان یقیناً انتہائی نیک ،رحم دل اور پُر خلوص ہوتے ہیں اور مریضوں کی ہر طرح رہنمائی کرتے ہیں لیکن اکثریت اُنہی ڈاکٹروں کی ہے جواپنے فرائض سے انتہائی کوتاہ نظری اختیار کرتے ہیں۔ سرکاری طبی مراکز میں علاج کرانے پر مجبور غریب غرباء مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اِن طبی اداروں میں اُن کے ساتھ جانوروںجیسا سلوک کیا جاتا ہے او رایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان طبی مراکز کا سارا دارو مدار محض عملے کے رحم وکرم پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ زیادہ تر غریب و بے بس مریض اکثر وبیشتر ناتجربہ کار اور اناڑی ڈاکٹروںکے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ان حالات میں سرکاری ہسپتال اور طبی مراکز میں تعینات ایسے ڈاکٹر اور طبی عملہ کو دیکھ کرعوام یہ سوچنے پر مجبور ہورہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مقدس پیشہ کو کیا سے کیابنا کر رکھ دیا ہے؟چنانچہ پرائیوٹ ہسپتالوں کے اخراجات سے معاشرے کا ہر فرد بخوبی آگاہ ہے کہ کم آمد نی والے افراد تو دور ، مناسب آمدنی والے بھی پرائیوٹ ہسپتالوںمیں اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی قوت نہیں رکھتے ہیں۔
تعجب ہے،اِن نجی ہسپتالوں میں وہی ڈاکٹرپورے عزم و حوصلے کے ساتھ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو سرکاری ہسپتال یا ڈسپنسریوں میں اپنے فرائض ہرگزپورا نہیں کرتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ڈاکٹرز ہیںجو سفارش یا پیسے کے زور پر نااہل ہونے کے باوجود ڈاکٹر بن کر لوگوںکی جانوں سے کھیل رہے ہیں اور انسانی زندگیاں برباد کررہے ہیں۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ میڈیکل کی تعلیم سے ناواقف کاروںنے ڈاکٹری پیشہ کا جنازہ نکال دیا ہے، پرائیوٹ میڈیکل کالج عملاً ٹیکسال کی طرح نوٹ چھاپنے میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں اناڑی ڈاکٹر کی فوج در فوج اس مقدس پیشے کا تقدس پامال کررہی ہے اور اِس کی رُسوائی اور بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کو ’’تعلیم برائے فروخت‘‘ہونے سے بچایا جائے اور میرٹ کے پرانے نظام کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔
سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوںمیں جو اسپشلسٹ ڈاکٹرز ہوتے ہیں،اُن سے علاج و معالجہ کروانا عام مریض کے لئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں، اُن میں کئی ڈاکٹروں کے ناز وانداز اور بلاخیز نخروں سے خدا ہی بچائے، مریض کی تسلی وتشفی تو کُجا سیدھے منھ بات بھی کرنے کو تیار نہیں ہوتے، فیس اِتنی کہ ہوش اُڑ جائیںاور نسخہ اتنا مہنگا کہ انسان کا دیوالہ نکل جائے۔ گویا ایسے بیشتر ڈاکٹرزکے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں،اس لئے اُنہیںنہ خوف خدا ہے اور نہ انسانیت کا احساس ۔جو لوگ سرکاری ہسپتالوںمیں مفت علاج کروانے آتے ہیں، اُنہیں ایسے ڈاکٹر اپنے پرائیوٹ کلینکوں پر بُلاکر ان کی کھال تک اُتار لیتے ہیںاور انہوں نےسرکاری ہسپتالوں میں اپنی ملازمت کو موج مستی کا ذریعہ اور نئے گاہک تاڑنے کا ایک اڈہ بنایا ہوا ہے۔