ٹوکیو / بیجنگ//جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے کے چیف قومی سلامتی کے مشیر شوتارو یاچي نے چین سے شمالی کوریا کے نیوکلیائی اور میزائل پروگرام کو روکنے میں اہم کردار اداکرنے کی اپیل کی ہے ۔ جاپان کی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان جاری کرکے اس بات کی اطلاع دی۔مسٹر یاچي نے ٹوکیو کے قریب چین کے اعلی سفارتی اہلکار یانگ جچي سے ملاقات کے دوران یہ بات کہیں۔ اس دوران شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سي این اے نے آج کہا کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ نے جدید تکنیک سے لیس نئے بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کا معائنہ کیا اور حکام کو اس سے بھی طاقتور ہتھیاروں کو ڈولپ کرنے اور اس میں مزید ترقی لانے کا حکم دیا۔مسٹر یاچي نے کہا کہ شمالی کوریا کے معاملے میں جاپان اور چین کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے چینی سفارتکار مسٹر یانگ سے کہا کہ دونوں ممالک کو شمالی کوریا سے اپیل کرنی چاہئے کہ وہ نیوکلیائی اور میزائل ٹیسٹ کرنے سے بعض رہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے پر زور دینا چاہئے ۔چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے بتایا کہ مسٹر یاچي اور مسٹر یانگ نے شمالی کوریا کے علاوہ علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق مسٹر یانگ نے جاپان سے جنوبی بحیرہ چین اور تائیوان جیسے مسائل کا حل کرنے کا بھی زور دیا۔غور طلب ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین اور تیسری سب سے بڑی معیشت جاپان کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے وقت سے ہی تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں۔ اس لئے دونوں اعلی افسران کے درمیان ہوئی یہ ملاقات کافی اہم مانی جا رہی ہے ۔رائٹر۔