ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
عثمان ایک سنجیدہ اور باوقار نوجوان تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار بیٹا تھا، مگر دل کے کسی کونے میں ایک نرم گوشہ بھی رکھتا تھا، سمیحہ کے لئے۔ سمیحہ اس کی ہم جماعت تھی۔ خوبصورت، بااعتماد اور جدید اندازِ زندگی رکھنے والی۔ کالج میں اس کی شخصیت نمایاں تھی۔ میک اپ، فیشن، رنگین لباس یہ سب اس کا حصہ تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ذہین، مہذب اور باکردار بھی تھی۔
وقت کے ساتھ دونوں کی دوستی محبت میں بدل گئی۔
گریجویشن کے اختتام پر عثمان نے ہمت کر کے اپنے والدین سے بات کی۔ اماں، میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں… اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ماں نے چونک کر پوچھا: وہی لڑکی نا… جو ایک دن تمہارے ساتھ گھر آئی تھی۔عثمان نے ہلکے سے سر ہلایا۔ ماں کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا: بیٹا، وہ لڑکی ہمیں پسند نہیں۔ بہت زیادہ بناوٹ، بہت زیادہ فیشن… ہمیں سادہ اور گھریلو لڑکی چاہیے۔
باپ نے بھی آہستہ سے کہا: میں نے بھی دیکھا تھا… مگر خاموش رہا۔ ایسے رشتے ہمارے خاندان میں نہیں چلے۔
عثمان کے دل پر جیسے بوجھ آ گیا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں چلا گیا۔ اسی شام اس نے سمیحہ کو فون کیا۔
سمیحہ… گھر والے مان نہیں رہے…
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سمیحہ کی آواز آئی: “تو کیا ہم ختم…نہیں عثمان نے فوراً کہا، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا… مگر ہمیں کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔
رات بھر دونوں نے سوچا اور پھر ایک منصوبہ بنایا۔
چند دن بعد عثمان نے گھر میں اعلان کیا: میں نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا ہے… اب ایک اور لڑکی ہے بہت سادہ، بہت شریف۔ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔
عثمان نے پہلی بار سکون کی سانس لی۔ گھر کا ماحول بدل چکا تھا، اب دکھاوے کی جگہ سمجھ آ چکی تھی۔
ماں کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔ چند دن بعد وہی سمیحہ، مگر رابعہ کے نام سے، سادہ لباس میں، بغیر میک اپ، سر پر دوپٹہ لئے گھر میں داخل ہوئی۔
ماں نے اسے دیکھ کر خوشی سے کہا: “ماشاءاللہ! یہی تو ہم چاہتے تھے۔ باپ نے بھی مسکرا کر کہا: “بیٹا، اب تم نے صحیح انتخاب کیا ہے۔ یوں منگنی ہوئی اور پھر شادی۔
وقت خاموشی سے گزرتا رہا… ایک مہینہ… پھر چھ مہینے… پھر پورا ایک سال۔
سمیحہ، جو کبھی فیشن اور بناوٹ کی پہچان تھی، اب اسی گھر کے رنگ میں ڈھل چکی تھی۔ سادہ لباس، دھیمے لہجے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی طمانیت۔ نماز، تلاوت، گھر کے کام… وہ سب کچھ جو اس نے پہلے کبھی سنجیدگی سے نہ کیا تھا، اب اس کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
مگر یہ سب کسی جبر کا نتیجہ نہیں تھا، نہ عثمان نے کبھی مجبور کیا اور نہ ساس سسر نے سختی کی۔ یہ تبدیلی خاموشی سے آئی تھی، اثر سے، ماحول سے اور کردار سے۔
عید کا دن تھا… گھر میں چہل پہل، مہمانوں کا ہجوم، رشتہ داروں کی آمدورفت۔ کھانے کے بعد سب بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سمیحہ کھڑی ہو گئی۔ اماں… ابا… اگر اجازت ہو تو میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں…
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ماں نے مسکرا کر کہا: ’’ہاں بیٹی، کہو…‘‘سمیحہ نے ایک لمحہ کے لئے نظریں جھکائیں اورپھر آہستہ سے بولی: آج میں آپ سب کے سامنے ایک راز کھولنا چاہتی ہوں۔ لوگ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ اس کی آواز میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی مگر الفاظ میں سچائی کی طاقت: میں… وہی لڑکی ہوں… جسے آپ نے ایک دن صرف اس کے فیشن اور میک اپ کی وجہ سے رد کر دیا تھا۔
جیسے کمرے میں وقت رک گیا ہو۔ ماں کا چہرہ زرد پڑ گیا، باپ کی آنکھیں پھیل گئیں۔سمیحہ نے بات جاری رکھی: میں نے اپنا نام بدلا… اپنا انداز بدلا… اور آپ کے سامنے رابعہ بن کر آئی۔
محفل میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ عثمان خاموش کھڑا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں میں سچائی تھی۔ سمیحہ نے گہری سانس لی اور کہا: مگر ایک بات آج صاف کر دینا چاہتی ہوں۔ اب اس کی آواز مضبوط ہو چکی تھی۔ میں نے اپنے آپ کو آپ کے ڈر سے نہیں بدلا… نہ کسی دھوکے کو قائم رکھنے کے لئے…میں بدلی… تو صرف اس لئے کہ میں نے آپ کے گھر میں اسلام کو جیتے ہوئے دیکھا… نماز کو، اخلاق کو، سادگی کو…
میں متاثر ہوئی… اور آہستہ آہستہ خود بدلتی چلی گئی۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ ہر شخص جیسے اپنے اندر جھانک رہا تھا۔ سمیحہ نے آخری جملہ کہا: آج میں فخر سے کہتی ہوں… میں وہی لڑکی ہوں مگر اب وہ نہیں رہی، جو کبھی تھی۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اٹھی، سمیحہ کو گلے لگا لیا: بیٹی… تم نے ہمیں آج سچ میں جیت لیا۔
باپ نے سر جھکا کر کہا: ہم نے تمہیں پہچاننے میں دیر کر دی… مگر تم نے ہمیں خود پہچاننا سکھا دیا۔ محفل میں موجود ہر شخص خاموش تھا مگر اس خاموشی میں ایک انقلاب چھپا تھا۔اصل خوبصورتی وہ نہیں جو چہرے پر سجتی ہے بلکہ وہ ہے جو دل میں اتر کر زندگی بدل دے۔
���
کریم منزل، پیس کالونی،شیخوپورہ،بڈگام، کشمیر
موبائل نمبر؛8825051001