پرویز مانوس
رات کی فضا میں خنکی گھلنے لگی تھی۔ خواجہ صاحب کے بنگلے کے وسیع لان میں خفگی اور غصے کی لہر تحلیل ہو چکی تھی۔ اُن کے چہرے پر غصے کی سرخی اور آواز میں بجلی کی کڑک تھی۔
خواجہ صاحب آگ اگل رہے تھے۔ بیٹے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی بیوی ثریا پر بھی برس پڑے۔
“تم کیسی ماں ہو؟ بیٹے کو سمجھاتی کیوں نہیں! وہ ہماری ناک کٹوانے پر تلا ہوا ہے۔ اُسے اپنی بہنوں کے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں؟”
ثریا بیچاری دو باٹوں میں پس رہی تھی۔ بیٹے کی حمایت میں بولتی تو شوہر ناراض، شوہر کے حق میں بولتی تو بیٹا خفا۔
بیٹے کی خطا صرف یہ تھی کہ وہ اپنی پسند کی لڑکی ماہ نُور سے شادی کرنا چاہتا تھا۔
ماہ نور کا تعلق ایک بہت مفلس خاندان سے تھا۔ اس کا باپ میرو ایک خستہ پوش جھونپڑی میں رہتا تھا اور سڑک کے کنارے سائیکلوں میں پنکچر لگا کر اپنے تین بچوں اور بیوی کا پیٹ پالتا تھا۔ ماں چرخہ کات کر میرو کا ہاتھ بٹاتی تھی۔
لیکن ماہ نور کو پڑھنے کا بےحد شوق تھا۔ جب وہ پڑوس کے بچوں کو صبح سویرے بیگ لٹکائے اسکول جاتے دیکھتی تو اُس کا دل مچل اٹھتا۔ اس کا بھائی بھی چار جماعتیں پڑھ کر ایک دکان پر کام کرنے لگا تھا۔
ماہ نور کے بار بار کہنے پر کہ:
“اماں! میں بھی اسکول جاؤں گی۔۔۔”
آخر ایک دن اس کی ماں نے میرو سے کہا:
“ماہ نور کو پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ اس کا نام اسکول میں درج کرا دو۔”
میرو نے دل پر پتھر رکھ کر پاس کے سرکاری اسکول میں اس کا داخلہ کرایا۔
وہ پڑھنے میں اچھی تھی۔ اساتذہ نے اس کی ضرورتیں پوری کرنا شروع کر دیں۔ اسی طرح وہ کالج تک پہنچ گئی۔
کالج میں مخلوط تعلیم تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات ہارون سے ہوئی جو خواجہ سلیم کا بیٹا تھا۔ جب ہارون نے دیکھا کہ ماہ نور نہایت ذہین اور سادہ مزاج ہے تو وہ بے اختیار اس کی طرف مائل ہو گیا۔
ایک دن ہارون نے کہا:
“ماہ نور! آج تک ہم اچھے دوست تھے مگر اب میں تمہیں پسند کرنے لگا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری زندگی کا حصہ بنو۔”
ماہ نور نے چہرے کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا:
“ہارون! ابھی میں اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی دہلیز پر نہیں ہوں۔ اس وقت میرا مقصد صرف سول سروسز کا امتحان ہے۔”
“ٹھیک ہے ماہ نور! میں اُس وقت تک انتظار کروں گا اور دعا کروں گا کہ تم کامیاب ہو۔”
ہارون نے دل میں عہد کیا کہ زندگی بھر ماہ نور ہی اس کے دل کی ملکہ رہے گی۔
لیکن ماہ نور پوری طرح اپنے ہدف پر جمی ہوئی تھی۔
ایک مرتبہ جب ضلع کلکٹر اُن کے محلے میں آیا اور اس کی امبیسڈر کار پر نیلی بتی جل رہی تھی تو اُس دن ماہ نور کے دل میں بھی یہ شوق جاگا کہ:
“ایک دن میں بھی ایسی گاڑی میں بیٹھوں گی۔”
بی اے کے بعد اس نے باپ سے کہا کہ وہ مسابقتی امتحان کی تیاری کرنا چاہتی ہے۔
میرو کو کچھ پتا نہ تھا کہ یہ امتحان کیا ہوتا ہے مگر اُس نے ہمت باندھی۔ ایک دوست کی مدد سے بینک سے قرض لیا اور ماہ نور کو کوچنگ کیلئے بھیجا۔ ماہ نور نے دن رات محنت کرکے امتحان دے ڈالا اور نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔
ادھر ہارون نے تعلیم مکمل کرکے اپنے باپ کے بزنس کو سنبھالنا شروع کیا۔ جب گھر میں شادی کا ذکر آیا تو اس نے ماہ نور کے بارے میں بتایا۔
خواجہ صاحب نے کھوج لگائی تو پتا چلا کہ لڑکی کا باپ میرو تو ایک پنکچر لگانے والا ہے۔ وہ آگ بگولا ہو گئے۔
“یہ ناممکن ہے! ہم خواجہ لوگ ہیں، کوئی عام محلے کے نہیں! تم ایک پنکچر والے کی بیٹی سے شادی کرو گے؟ یہ ہمارے خاندان کے شایانِ شان نہیں!”
ہارون نے مضبوط آواز میں کہا:
“ڈیڈی! وہ پنکچر والے کی بیٹی نہیں، صرف ماہ نور ہے۔ ایک محنتی، تعلیم یافتہ اور باوقار لڑکی۔ وہ سول سروسز کا امتحان پاس کرے گی۔”
خواجہ صاحب طنزیہ ہنسے:
“ہا ہا ہا۔۔۔ سول سروسز؟ بڑے بڑے قابل لوگ وہاں سے پیاسے لوٹتے ہیں! اُس کی کیا اوقات؟”
ثریا نے کانپتے لہجے میں کہا:
“خواجہ صاحب! بچہ ضد پر ہے۔ اگر ہم نے سختی کی تو کہیں وہ کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے—”
“چُپ رہو، ثریا!” وہ گرجے۔
دوسری طرف ماہ نور کتاب کھولے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں وہی کتاب تھی جس کے حاشیے پر کبھی ہارون نے لکھا تھا:
“تعلیم تمہیں اس آسمان تک لے جائے گی جہاں تمہیں چھپر کی چھت یاد بھی نہیں رہے گی۔”
اسی لمحے میرو آیا۔
“بیٹی! آج پورے پانچ سو روپے کمائے ہیں۔ کوئی کتاب لانی ہو تو بتا دینا۔”
ماہ نور مسکرائی۔
“ابو! میرے امتحان کا نتیجہ آگیا ہے۔ میں نے ٹاپ کیا ہے۔”
“کیا؟”
میرو کی آنکھوں میں حیرت بھر آئی۔
“بابا! میں افسر بننے والی ہوں۔”
ماں زرینہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک آئے۔
“دیکھا! میری بیٹی نے چھپر سے چاند چھو لیا!”
دن گزرتے گئے۔ ماہ نور کی تقرری ضلع آفس میں ہوئی۔ لوگ حیران تھے کہ پنکچر والے کی بیٹی اب سرکاری کرسی پر بیٹھی ہے۔
دوسری طرف خواجہ صاحب کو ایک اخبار ملا جس میں ماہ نور کی تصویر تھی:
“غریب باپ کی بیٹی نے کیا آئی اے ایس میں ٹاپ ایک مثال!”
انہوں نے اخبار پھینک کر کہا:
“ہارون! کیا اب بھی تمہارا یہی فیصلہ ہے؟”
“جی ہاں، ابو! وہ چھپر والے کی بیٹی نہیں بلکہ چھپر کا چاند ہے!”
ثریا بیگم نے دھیرے سے کہا:
“خواجہ صاحب! لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ کیا برا ہے اگر وہ ہمارے گھر آ جائے؟”
خواجہ صاحب چند لمحے سوچتے رہے۔
پھر ان کی سختی آہستہ آہستہ پگھل گئی۔
اگلے روز وہ میرو کے گھر پہنچے۔
میرو نے ادب سے کہا:
“صاحب! چھپر میں جگہ کم ہے مگر دل میں بہت ہے۔”
ان کی باتیں دل کو لگیں۔
ماہ نور آفس سے آئی۔ اس نے سلام کیا۔
خواجہ صاحب نے کہا:
“بیٹی! تم واقعی قابل ہو۔ میں تمہارے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اب سب کچھ جان کر لگتا ہے کہ تم ہمارے لائق ہو۔”
میرو نے صاف لہجے میں کہا:
“صاحب! ہم غریب ضرور ہیں مگر عزت کے بھوکے ہیں۔ بیٹی کے جذبات کا سودا نہیں کرتے۔”
یہ سن کر خواجہ صاحب خاموش ہو گئے۔
بالآخر شادی دھوم دھام سے ہوئی۔
ہارون نے ماہ نور کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
“اب تم میری محبت نہیں—میرا فخر ہو۔ تم نے ثابت کر دیا کہ چھپر میں جنم لینے والا چاند بھی آسمان چھو سکتا ہے۔”
���
آزاد بستی نٹی پورہ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9429463487