سرینگر//بیجاپور ضلع میں پولیس اور ماؤنوازوں کے مابین سنیچر کو تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہے تصادم میں ایک دن بعد ہلاک ہونے والے فورسز اہلکاروں کی تعداد24 پہنچ گئی اور مزید 31 جوان زخمی ہیںجبکہ متعد فوجی ابھی بی لاپتہ بتائے جارہے ہیں ۔چھتیس گڑھ کے بیجا پور ضلع میں پولیس اور ماؤ نوازوں کے مابین سنیچر کے روز تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہے تصادم میں ایک دن بعد ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ سے بڑھ کر 24 ہو گئی ہے اور مزید 31 جوان زخمی ہیںجبکہ ابھی تک متعدد فورسز اہلکار لاپتہ ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ 24 اہلکاروں کی ہلاکت اور 31 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے تقریباً ایک درجن کو علاج کے لئے راجدھانی رائے پور بھیج دیا گیا ہے اور دیگر کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ زخمی جوانوں میں سے کئی اہلکاروںکی حالت سنگین ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ابھی بھی کئی فوجی لاپتہ ہیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ اس تصادم میں کچھ ماؤ نواز بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن کی لاشیں ماؤ نوازوں کے قبضے میں ہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنگل میں پہاڑیوں سے گھرے علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں ماؤنوازوں نے مشترکہ گشتی ٹیم پر حملہ کیا۔ گشتی ٹیم میں بھی سینکڑوں جوان شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ماؤ نواز پہاڑیوں پر سے حملہ کررہے تھے۔ اس دوران آج اور زیادہ تعداد میں پولیس دستہ جائے واقعہ کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تصادم کا مقام یہاں سے تقریباً 75 کلو میٹر دور ہے۔ تصادم کل دن میں تقریباً دو بجے شروع ہوا تھا اور دیر شام تک جاری رہا۔ پہاڑیوں سے گھرے علاقے میں کل دیر رات تک پانچ جوانوں کے ہلاک ہونے کی سینئر افسر نے تصدیق کی تھی۔ زخمیوں میں سے 12 جوانوں کو سنیچرکی شام ہی ہیلی کاپٹر سے رائے پور بھیج دیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تصادم بیجا پور اور سکما ضلع کی سرحد پر ترریم علاقے کے جنگلوں میں ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں پر کچھ دنوں سے ماؤنوازوں اور ان کے لیڈروں کے یکجا ہونے کی اطلاع پر گشتی ٹیم بھیجی گئی تھی۔ گشتی ٹیم میں سیکڑوں جوان شامل تھے۔یو این آئی