بلال فرقانی
سرینگر// حکومت نے ریڑھی و پٹری فروشوں کے باقاعدہ سروے، انہیں قرض اور کریڈٹ کارڈ سہولیات سے جوڑنے، عوامی آگاہی پروگراموں کے انعقاد اور ڈیجیٹل آن بورڈنگ کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ اس مقصد کیلئے نگرانی نظام کو فعال بنا کر متعلقہ اداروں کو واضح ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں تاکہ چھاپڑی فروشوں کو مالی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔ نگرانی کو یقینی بنانے کیلئے یونین ٹیریٹری، ضلع اور شہری بلدیاتی ادارہ سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیوں کی تشکیل کی ہے۔ یونین ٹیریٹری سطح پر قائم مانیٹرنگ کمیٹی اسکیم کے مجموعی نفاذ کی نگرانی کرے گی اور مختلف اضلاع و بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اسکیم کے تحت درکار انسانی وسائل کی تقرری، جدید اور اختراعی منصوبوں کی منظوری اور شناختی پریچے بورڈز کی طباعت و تقسیم جیسے امور پر فیصلے کرے۔ کمیٹی ہر تین ماہ میں کم از کم ایک اجلاس منعقد کرے گی تاکہ سکیم کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکے۔ضلع سطح پر تشکیل دی گئی مانیٹرنگ کمیٹیوں کی سربراہی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کریں گے۔ یہ کمیٹیاں ریڑھی وپٹری فروشوں کی نشاندہی اور متحرک کرنے، قرضوں کی تقسیم کے عمل کی نگرانی، بینکوں اور نامزد اداروں کے ساتھ تال میل اور ڈیجیٹل آن بورڈنگ میں معاونت فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ ضلع سطح کی کمیٹیاںپٹری فروشوںکیلئے تربیتی پروگراموں کے انعقاد میں تعاون اور سکیم کے نفاذ کے دوران درپیش مسائل کے حل کی ذمہ دار ہوں گی۔ یہ کمیٹیاں ہر ماہ اجلاس منعقد کریں گی۔اسی طرح شہری بلدیاتی ادارہ سطح پر قائم مانیٹرنگ کمیٹیاں اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ کے تحت سروے، قرض و کریڈٹ کارڈ درخواستوں میں مدد، ماہانہ لوک کلیان میلہ اور سالانہ سواندھی مہوتسو کے انعقاد جیسے امور انجام دیں گی۔ یہ کمیٹیاں قرضوں کی بروقت فراہمی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور اسٹریٹ وینڈرز کی مالی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے بینکوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گی۔حکام کے مطابق ان کثیر سطحی مانیٹرنگ کمیٹیوں کا قیام وزیر اعظم’ سواندھی اسکیم‘ کے تحت ریڑھی پٹری فروشوں کو خود کفیل بنانے، ان کی روزی روٹی کو مستحکم کرنے اور شہری معیشت میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سخت مانیٹرنگ اور باقاعدہ جائزے کے ذریعے اسکیم کے فوائد مستحقین تک بروقت اور شفاف طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔یونین ٹیریٹری سطح پر تشکیل دی گئی مانیٹرنگ کمیٹی کی صد ارت محکمہ مکانات و شہری ترقی کے انتظامی سیکریٹری کریں گے، جبکہ محکمہ خزانہ، ریزرو بینک آف انڈیا، سمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا یو ٹی سطح بینکرز کمیٹی اور بلدیاتی اداروں کے نمائندے اس کے رکن ہوں گے۔ ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں پولیس، بلدیاتی اداروں، بینکوں اور ترقیاتی محکموں کے افسران شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کریں گی اور ریڑھی پٹری فروشوں کی نشاندہی، قرضوں کی تقسیم، ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور اسکیم کے نفاذ میں درپیش مسائل کے حل کی نگرانی کریں گی۔اسی طرح شہری بلدیاتی ادارہ سطح پر میونسپل کمشنروں، ایگزیکٹو افسراں یا کنٹونمنٹ بورڈوں کے چیف ایگزیکٹو افسراںکی سربراہی میں کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں اسٹریٹ وینڈرز انجمنیں، بینکوں اور سیلف ہیلپ گروپس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔