محتشم احتشام
پونچھ//تحصیل منڈی کے عوام کی برسوں کی مانگ، مسلسل عوامی جدوجہد اور طویل انتظار کے بعد بالآخر چنڈک–منڈی سڑک منصوبے کا ٹینڈر 9.51 کروڑ کی لاگت سے منظور کیا گیا، جس سے پورے علاقے میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سنگِ میل حویلی حلقہ کے معزز رکنِ اسمبلی اجاز احمد جان کے اس پختہ عزم کی عملی تعبیر ہے جو انہوں نے عوام سے کیا تھا۔ٹینڈر کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی مقامی قیادت، تاجر برادری، بیوپار منڈل کے اراکین، بزرگ شہریوں اور طلبہ نے اپنے محبوب قائد سے والہانہ تشکر کا اظہار کیا اور اسے منڈی کی ترقی کی سمت ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا۔ایم ایل اے اجاز احمد جان نے کہا کہ چنڈک–منڈی سڑک محض ایک رابطہ شاہراہ نہیں بلکہ بابا بڈھا امرناتھ جی کے مندر تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے، جہاں ہر سال ملک بھر سے ہزاروں یاتری آتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سڑک حضرت سید سائیں الٰہی بخش کے مزار، بٹلکوٹ لورن تک بھی سال بھر زائرین کی آمد و رفت کو ممکن بناتی ہے، جبکہ ایل او سی کے ساوجیاں سیکٹر کی جانب فوج اور نیم فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے بھی ناگزیر ہے۔
ایم ایل اے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کی خستہ حالی کے باعث مقامی باشندوں کو تعلیم اور ضلع ہسپتال پونچھ میں علاج کیلئے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز نے ہمیں قریب بارہ سال نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا تاہم آئندہ ترجیح رواں سال کے دوران لورن اور ساوجیاں سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ ہوگی۔سیاسی مخالفین پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے پْرعزم انداز میں کہا کہ ان کا حلقہ ایک ماڈل حلقہ بنے گا اور عوام جلد اس مثبت تبدیلی کے گواہ ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم حکومت عوامی امنگوں کی ترجمان ہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے حکومت’’اور کیے گئے ہر وعدے کو پورا کیا جائے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ چنڈک–منڈی سڑک ایک دہائی سے زائد عرصے تک ناگفتہ بہ حالت میں رہی اور سابقہ ادوار میں معمولی مرمت بھی نہ ہو سکی، جو طویل غفلت کی عکاس تھی۔ اب اس منصوبے سے نہ صرف آمد و رفت میں سہولت، بلکہ مقامی تجارت کے فروغ اور ہزاروں شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آسانی متوقع ہے—یوں تحصیل منڈی کے لئے ترقی کا نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔