عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//کموڈیٹی بازار میں چاندی نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ہندوستان کے ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر چاندی پہلی بار دو لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح کو عبور کر گئی۔ جمعہ کے کاروباری سیشن کے دوران زبردست خریداری کے سبب چاندی کا بھا 201615 روپے فی کلو تک پہنچ گیا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم، اونچی قیمتوں پر منافع خوری کے باعث بازار بند ہوتے وقت یہ 192615 روپے فی کلو پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق چاندی میں یہ تیزی محض وقتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے مضبوط بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ ایکسس ڈائریکٹ کے مطابق، 2024 میں 20 فیصد سے زیادہ منافع دینے کے بعد 2025 میں بھی چاندی کی قیمتوں میں تیزی برقرار ہے۔ سالانہ بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ 1979 کے بعد سب سے زیادہ بتایا جا رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ چاندی طویل عرصے کے بعد ایک مضبوط تیزی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔چاندی کی قیمتوں میں تیزی کی پانچ بڑی وجوہات ہیں۔1۔ صنعتی طلب میں غیر معمولی اضافہ: ایکسِس میوچول فنڈ کے مطابق 2025 میں سولر پینلز، الیکٹرک وہیکلز(ای وی) اور 5جی ٹیکنالوجی میں چاندی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ ان شعبوں میں بڑھتی مانگ کے مقابلے میں سپلائی محدود ہونے سے قیمتوں پر واضح دبا آیا ہے۔ 2۔ سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی: عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی حالات کے درمیان سرمایہ کار اب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کو بھی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کموڈیٹی مارکیٹ میں مجموعی مضبوطی کا فائدہ چاندی کو بھی ملا ہے۔3۔ عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی: امریکہ کے کومیکس ایکسچینج پر چاندی 65.085 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو کئی برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ عالمی سپلائی میں کمی نے ہندوستانی بازار کو بھی متاثر کیا ہے۔4۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی کمزوری: روپے میں کمزوری کے سبب درآمدی دھاتیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر چاندی کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔5۔ امریکی تجارتی پالیسی سے متعلق خدشات: بازار میں یہ اندیشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چاندی پر درآمدی ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔ امریکہ اپنی ضرورت کی تقریبا دو تہائی چاندی درآمد کرتا ہے، جس کے باعث وہاں کمپنیوں نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے اور عالمی سپلائی مزید دبا میں آ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ عوامل برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھا کے باوجود مجموعی رجحان مضبوط رہ سکتا ہے۔