تعلیم گاہوںکے بارے میںبچپن سے سنتے اورپڑھتے آئے ہیںاورہماراحسنِ ظن بھی ہے کہ وہاںفہم کوایک رُخ عطاہوتاہے۔ادب کوایک مقام دیاجاتاہے ۔جہالت کوزیرکیاجاتاہے۔علم کے نورکوپروان چڑھایاجاتاہے۔تخریب سے تعمیرکاسفرطے کرایاجاتاہے اورانسانیت کے اسباق ازبرکرائے جاتے ہیں۔گویااگرآپ ’گدھے ‘بن کرجائیںگے توانسان بنانے کی گارنٹی آپ کودی جاتی ہے لیکن یہ تاثیرضروری نہیںکہ دنیاکے ہرکالج یا جامعہ (یونیورسٹی)میںہو۔یہاںتوکبھی کبھی شیخ سعدیؒکافارمولابھی کام کرتاہے ؎
خر ِعیسٰی گربمکہ رود چوںبیایدہنوزخرباشد
یہاںکی جامعات میں کرداربن رہانہ افکارکی صحیح تفہیم ہورہی ہے۔سلیقہ مندی ہے نہ تہذیب وشائستگی کے گُر۔تعمیرمیںہی ایک صورت خرابی کی مضمرہے۔معاشرہ تشکیل نہیںپارہابلکہ تخریب کے نچلے سطح پرآن پہنچاہے۔لمحہ مرثیہ ہے کہ ہمارے کالج اوریونیورسٹیاں ’کرامات‘اور ’معجزے‘ کرنے سے قاصرہیں۔حالانکہ سُناہے کہ علامہ اقبالؔکو جرمنی کی میونخ یونیورسٹی نے صرف چھ مہینے کی قلیل مدت میںہی پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری تھمادی تھی۔۔۔!
میزپرکتابوں اورکاغذا ت کاپلندابکھراپڑاتھا ۔الماریوں میںکتابیں قرینہ سے رکھی ہوئی تھیںاورٹیلی ویژن پر ـ’کأشر‘ چینل پر مبنی بھر پروپیگنڈہ پروگرام ’’سرحد کے اُس پار‘‘ چل رہاتھا اوراسکرین پرسیدمنورحسنؔ (اُس وقت کے امیرجماعت اسلامی پاکستان) جلوہ افروز تھے ۔ جب میں دوپہر کواپنے بھائی آصف جیلانی کے ہمراہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردومیں پروفیسر مجیدمضمرؔ مرحوم کے کمرے میں پہلی دفعہ داخل ہوا ۔اپنے کام میںمصروف مرحوم سے داخلہ کے بارے میںمختصر استفسارکے بعد ہم انہیں ان کے کاغذات کے ساتھ چھوڑکر باہر قدم رنجہ ہوئے ۔ کیامعلوم تھا کہ یہ مختصرتعارفی ملاقات مرحوم کے ساتھ آئندہ پانچ برسوں کی طویل مصاحبت کی تمہید ثابت ہوگی۔
2009ء میںایم۔اے میں داخلہ لیا۔شعبہ میںرہ کر مرحوم مجیدمضمرصاحب کی انکساری وملنساری کے جوہردیکھے ۔ مرحوم کم سخن تھے لیکن جب بولتے تھے توسمند ر بکوزہ کے مانند اختصارسے کام لے کر مقصد کی بات دل نشین اندازمیں مخاطب کے گوش گزارکرتے ۔ صحیح کہاگیاہے کہ ’’Brevity is the sole of wit‘‘(اختصار دانش مندی کی روح ہے)۔وادی میں قحط الرجال کے اس دورمیں اردوادب کے حوالے سے وہ واقعتا ایک رجل عظیم تھے۔ کلاس میں اُن کے پڑھانے کاانداز بھی دلچسپ تھا ۔تصنّع اوربناوٹ سے مجتنب ،مخاطب کے ذہنی استعداد کوملحوظ نظررکھ کر لیکچردیتے ، ایسے کہ الفاظ گوش سے ہوکرسیدھادل پردستک دیتے ۔سب طلباء چاہتے تھے کہ وقت طول کھینچے اورکلاس ختم نہ ہوتاکہ ہم زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔ موجودہ دورمیںجب کہ علم اورمنصب گھمنڈ اورتکبر کوبھی ساتھ لاتاہے ،مرحوم اِن بری صفات سے کوسوںدورتھے ۔ طلباء کوکبھی یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ مرحوم ایک بڑے عہدے کاحامل ہے ،جس کی وجہ سے ایک خلاء رہنی چاہیے ۔برعکس اس کے وہ ہمیں بُلاتے،اپنے پاس بٹھاتے اور اردوزبان کے حوالے سے محوگفتگو رہتے۔حق مغفرت کرے!
ایم ۔اے کے بعدایم۔فل میںداخلہ لیااوربعدازاںپی۔ایچ۔ڈی کے لئے بھی منتخب ہوا۔اِس وقت جبکہ میرے قلم کی سیاہی کاغذکی ازلی پیاس کوبجھارہی ہے،کیسے نالہ وفریادکروںکہ میرے بالوںمیں’سفیدچاندی‘ اُترچکی ہے۔عزیزواقارب اسے قبل ازوقت کاعمل قراردے رہے ہیں۔اُن کی نشتر نمانظریںاور’بول کہ لب آزادہے تیرے‘والاجذبہ مجھ سے استفسارکرتارہتاہے کہ آخریہ’ آفت ‘کیونکرآن پڑی؟کوئی غمگین ہوکرتوکوئی ازراہِ مزاح’ فقرہ کستا‘رہتاہے۔تومیراایک ہی جواب ہوتاہے کہ ’کیاآپ نے کشمیریونیورسٹی میں ایم۔اے سے پی۔ ایچ ۔ڈی تک کے زینے طے کئے ہیں؟‘
جامعہ کشمیرمیںپی ۔ایچ۔ڈی کی’ زُلف سر‘کرنے کے لئے ’عمرِنوحؑ،صبرِایوبؑؓ،کنجِ قارون اور بازوِ حیدرؓ درکار ہیں۔ انسان مضبوط اعصاب کاحامل نہ ہوتویہاںکی جامعہ اسے ذہنی اورجسمانی امراض میںمبتلاکرنے کی ’گارنٹی ‘دیتی ہے۔حیراں ہوںکہ اس نظام کے چلتے ’خودکشیاں‘آ خر کیوں نہیں ہورہیں…!کالجزکے طلباء ہوں یا جامعہ کشمیرکے، اکثر چہروں پرآپ یاس،وحشت،اندیشے اوراضطراب محسوس کریںگے۔یہاںاربابِ حل وعقد کو وقت کی قدرہے نہ مدبّرانہ حکمتِ عملی کی۔۔۔کشمیریونیورسٹی ایک ایسا’کارخانہ‘ہے جس میںموجودمشین کے سبھی’پُرزے‘زنگ آلودہیں۔ترقی وفعّالیت ، تحرک وتبدّل یاحُرکی تصورکے پہئے یہاںجامدہیں۔بس ہرسُویک رنگی سی یک رنگی ہے،سکوت ہی سکوت…سمسٹرزکاایساجال بچھایاہے کہ کالج و یونیورسٹی کے طلبااُس میںبہت گہرائی تک ’دھنسے‘ہوئے ہیں۔یوںنوکریوںپربرسوںکا’پہرہ‘جماکروہ خودنشاط آورمحفلوںکے مزے لُوٹ رہے ہیں۔
اعلیٰ عہدے دارسے لے کرادنیٰ ملازم تک،نے قسم لی ہے مشاقانِ علم کونِت نئے طریقوںسے ستانے کی۔وہاںاسکالرزکی کوئی عزت سے نہ توقیر۔اساتذہ صاحبان تک کوبھی شعبوںمیں’کام‘کررہے غیرتدریسی عملہ کے رویے،ان کی تُندمزاجی کاخوف رہتا ہے ۔اکثر پروفیسر صاحبان بھی اسکالرز وطلباء کی طرح اس وجہ سے ذہنی تنائوتک کاشکارہوتے ہیںالّاماشاء اللہ۔شیخ الجامعہ ومتعلقہ ذمہ داران کوان’ چھوٹے‘ مسئلوںکونپٹانے کی، طلباء، اسکالرز اوراساتذہ صاحبان کوعزت کامقام دلانے کی فکرہے نہ وقت۔’نشہ اقتدار‘کے جراثیم رئیس جامعہ کے دفترکے اگل بگل بھی پائے جاتے ہیں۔ایک دستخط جسے کرنے میںایک دوسیکنڈہی لگتے ہیں،اُس کے لئے بھی مانوجیسے سُوئی کے ناکے میںسے گزرناپڑتاہے۔
جامعہ کشمیرمیںداخلہ طلباء اپنے لئے بڑی فتح تصورکرتے ہیں۔دل ودماغ میں کیاکیاخواب سجائے وہ آتے ہیں۔امیدکادیاجلائے ، آنکھوں میں چھپی خوشی اورچہرے پرسجی مسکراہٹ اس کی غماض ہوتی ہے۔لیکن جوںجوںوقت کاپہیہ حرکت کرتاجاتاہے ،اکثرطلباء سوچنے پرمجبورہوتے ہیںکہ وقت اُن پر’مہربان‘ نہیںتھا۔وہ عزت کی تلاش میںیہاںکارُخ کرتاہے لیکن جابجابے عزتی ،ناقدری اوراحساسِ کہتری پیداکرنے والے ’نستعلیق ‘ فقروںکی بارش اسے شرمسارکرتی رہتی ہے۔تب جاکے مذکورہ طالبعلم اس ساعت کوکوستاہے جس ساعت اس نے منتخب ہوکرجامعہ میںداخلہ لیاتھا۔وہ خوشیاں،وہ مسرتیں،وہ امیدیںسب ہواہوجاتی ہیںاورجوپیسہ تعلیم کے حصول پرصرف کیاہوتاہے وہ سب ’پانی‘۔۔۔!
راقم کے مشاہدے میںایسے طلباء واسکالرزبھی آئے جنہوںنے اپنے عزیزواقارب کوجامعہ کشمیرمیںداخلہ لینے سے منع کیا۔وہ سوچتے ہیںکہ ہم پرجوبیتی سوبیتی کوئی اپنااب اس ’فیض‘سے محروم ہی رہے تو وہی بہترہے۔جب کشمیرمیں’جمہوری‘حکومتیںہواکرتی تھیںتب بھی جامعہ سیاست کااکھاڑا تھا اور اب جبکہ اُس’ اپاہچ جمہوریت‘ کاجنازہ نکل چکاہے، وہاں’نشہ اقتدار‘رکھنے والوںمیںہنوزانسانیت کافقدان ہے۔
ایسانہ سمجھیںکہ وہاںصرف منفی مناظر ہی ہیں،نہیں،بلکہ اطراف میںجابجاپارکزہیں۔گُل وبلبل کی مہک وچہک ہے اوران کے بیچ وبیچ مشامِ جاںکومعطرکرنے لئے طلباء وطالبات خالی وقت میںمٹرگشتی کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔اعلیٰ وکمترقہوہ خانے ہیں ۔ جدید آلات سے پُرشعبے ہیں۔بندالماری کے شیشوںسے جھانکتی گردآلودلاتعدادکتابیںہیں۔حسرت سے’ تکتی‘ اینٹ،پتھرسے بنی پُرشکوہ بلندعمارتیںہیں۔NAACکادورہ ہوتوجامعہ کی درودیواریںشادکام ہوتی ہیںکیونکہ وہ اُن کے سجنے کاوقت ہوتاہے۔جامعہ کی ’رسمِ حنابندی ‘کے دوران کبھی کبھی کلاسز بھی متاثرہوتے ہیں۔کمی اگررہتی ہے تو بس ’لباسِ عروسی‘کی۔ان کی دیکھادیکھی وادی کے تقریبا ًسبھی کالجز’قومی کونسل ‘کی میزبانی کے فرائض ایسے انجام دیتے ہیںجیسے کہ بارات کوآنا ہو۔
قدآوراساتذہ کرام کی بھی کمی نہیںہے جواپنے جگرکالہونچوڑکرطلباء کامستقبل سنوارتے ہیں۔کچھ ایسے اساتذہ کرام بھی ملے جوطلباء کی ذاتی زندگی کی تکالیف،گوناگوںپریشانیوں کودورکرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے۔دلِ مضطرکوفرحت بخش نصائح کے ساتھ ساتھ مالی واخلاقی تعاون کرتے ہوئے بھی دکھے۔جواپنے فیلڈمیںعلم کے بحر ِبے کنارہیں۔خوشامدی سے مجتنب ہیں۔ان کی معیت واقعی ہمارے لئے نعمتِ غیرمترقبہ رہی۔عجزوانکساری نے ان کے حُسن کودوبالاکردیاہے۔ہاسٹل کراناہویااے ۔ڈی بلاک وایگزامنیشن بلاک سے کوئی کاغذدستِ بے رحم سے’رہا‘کراناہو،کچھ شفیق اساتذہ ہمدردی وغمخواری میںآپ کے ہمرکاب ہولیتے ہیں۔ایسے اساتذہ ہمیںتاعمرمقروض کردیتے ہیںاورہمارافرض بنتاہے کہ ان کے لئے بارگاہِ ایزدی میںتاحینِ حیات دست درازبلندکئے رکھیں۔
زبان غرقِ ندامت ہے۔دل جذبات کی’ پوری‘ ترجمانی سے قاصر۔ایک طرف چندمخلص اساتذہ ہیںلیکن دوسری طرف کچھ ایسے حضرات بھی ہیںجن کے ستائے ہوئے ہیں۔پھربھی قلم لکھنے سے عاجزنہیںکہ اللہ انہیںمعاف کرے اورانسانیت کے راستے پرلگائے ۔مجموعی طورپرہماری روح کی قوس وقزح کے رنگ مرتے جارہے ہیں۔ اقتدار اعلیٰ نے ہوس کی کچھ ایسی غیرمرئی دیواریںتعمیرکی ہیںجن کے سائے میںدب کرانسانیت کاوہ رنگ جووجہِ تخلیقِ کائنات تھا، جو ترکیبِ نسلِ انسانی کابنیادی عنصرتھا،ہماری خواہشوںکی بھینٹ چڑھ کرخوداپنی موت مرتاجارہاہے۔احساس کی کوئی گرہ ہے جوکَستی جارہی ہے ۔ انسانیت مررہی ہے۔۔۔!
بہرحال پی۔ایچ۔ڈی مقالہ سبمٹ کرنے کے سولہ مہینوںبعدخداخداکرکے راقم کاvivaہوا،حالانکہ سبمشن کے سات ماہ بعدہی دلی وعلی گڑھ سے دوماہرین نے رپورٹ ارسال کی تھی۔یہ اللہ کابے انتہااحسان ہواکہ اس ذہنی تنائوسے ’نیم رخصتی‘ ملی کیونکہ اس کے بعدبھی ڈیڑھ مہینے کاستانے کا’کورس‘ابھی باقی تھا۔vivaکے ڈیڑھ ماہ بعدپی۔ ایچ۔ ڈی رزلٹ نوٹیفیکیشن ہاتھ میںلے کرایسامحسوس ہواجیسے ہمالہ سرکیاہو۔اُن بے جان و’بے مروّت ‘ درودیواروںسے نکل کرشکرانہ کی دواور’توبہ‘کی چاررکعات ’عجزوانکساری ‘کاہیولہ بن کراداکیں اورایک حسرت بھری نگاہ یونیورسٹی کی طرف لوٹاکرقریب چاربجے’ با بِ سرسیدؔ‘سے نوسال’قیدِبامشقت‘ رہ کر حریت کے قدم نکال کر’آزادی ‘کے اُس جذبے کومحسوس کررہاتھاجس کی عکاسی میرا قلم’ گھسیٹنے‘ سے عاجزہے ؎
کہتاہوںوہی بات سمجھتاہوںجسے حق
نہ ابلہِ مسجدہوں،نہ تہذیب کافرزند
اپنے بھی خفامجھ سے ہیں،بیگانے بھی ناخوش
میںزہرِہَلاہِل کوکبھی کہہ نہ سکاقند
(اقبال)
نوے میںتعلیم کی’بسم اللہ‘نورالاسلام اسکول بارہمولہ سے ہوئی ۔اُن اساتذہ کرام نے مجھے ’لفظ‘اور’معنی‘سے آشناکیا ۔ پڑھائی کے میدان میںجوبھی ’پگڈنڈیاں‘،’ریگزار‘،‘سبزہ زار‘،’کوہسار‘،’خوف ورجا‘ کے مواقع آئے ،سب کواللہ نے اساتذہ کی محنت اورمحبوںکی دعاسے اُفتاںوخیزاںسرکرایا۔علم کے بحرِبے کنارسے ایک قطرہ کی طلب تھی لیکن آبِ دست اُس قطرے کے عشرِعشیرکاہی متحمل نکلا۔پی۔ایچ۔ڈی کی تکمیل ہوئی ہے،علم کے حصول کی نہیں۔ابھی اُس’کُل‘سے بس ’جُز‘ہی ہاتھ لگاہے،ابھی آگے’ آسماں‘اوربھی ہیں۔سبھی اساتذہ کرام کے اخلاقی تعاون کامعترف اور محبتوںکامقروض۔۔۔!
ای میل : [email protected]