عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//جموں و کشمیر حکومت نے پبلک ورکس (آر اینڈ بی) ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ غیر قانونی ترقیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں محکمہ کے اندر ہونے والی ترقیوں پر اٹھائے گئے سوالات کی مکمل جانچ کے احکامات دئیے گئے ہیں۔حکم نامے کے مطابق کمیٹی کو وقار احمد، جو اس وقت پبلک ورکس (آر اینڈ بی) ڈویژن تھنہ منڈی میں بطور ان اسسٹنٹ انجینئر خدمات انجام دے رہے ہیں، کی ترقی کے معاملے کی جانچ سونپی گئی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا مذکورہ ترقی محکمہ جاتی قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی گئی یا نہیں۔اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی محکمہ پبلک ورکس (آر اینڈ بی) کے ایڈیشنل سیکریٹری کریں گے، جبکہ آر اینڈ بی سرکل راجوری کے سپرنٹنڈنگ انجینئر اور محکمہ کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ (ایچ آر ایم) ڈویڑن کے سینئر افسران کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام ریکارڈ، محکمہ کو موصول ہونے والی شکایات اور ترقیوں سے متعلق قواعد و قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے۔سرکاری حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کر کے 15 دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ اگر دورانِ تحقیق کمیٹی کے کسی رکن کی تعیناتی یا پوسٹنگ میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے ان کی ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔یہ حکم نامہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے اور اس پر محکمہ پبلک ورکس (آر اینڈ بی) کے پرنسپل سیکریٹری انیل کمار سنگھ کے دستخط ثبت ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کو شفافیت اور جوابدہی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔