رشید پروینؔ
میں اپنے آفس میں اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھا تھا، لیکن پہلے یہ واضح کردوں کہ یہ میرا آفس یوں ہے کہ میں یہاں کام کرتا ہوں ۔در اصل یہاں میں بھی ایک ملازم کی حیثیت سے ہی اپنے فرائض انجام دیتا ہوں۔ یہاں اور بھی کچھ ملازم ہیں جن میں دو تین اللہ کی بندیاں بھی کمپوٹر پر ہی کام کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ جنریشن کمپوٹر میں، میرے خیال میں زبردست مہارت رکھتی ہے۔ بہر حال میری اتنی سیلری ہے کہ میرا خرچہ چل رہا ہے اور کوئی خاص مشکل نہیں آرہی کیونکہ اب جس سٹیج پر ہم میاں بیوی ہیں وہاں ضروریات کے علاوہ کسی اور خواہش کی شاید کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ بہر حال اس آفس سے ملحق دوسرا بڑا کمرہ ہے جہاں سٹاف بھی ہوتا ہے اور اس بڑے آفس میں کسٹمرس بھی آکر مالک سے یا سیلز مین کے ساتھ شو روم کا چکر لگانے کے بعد اپنی پسند کے ایٹم لکھاتے اور معاملات طئے کرتے ہیں ۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے میں نے دیوار میں لگے ہوئے شیشے سے جھانکا تو چار پانچ اشخاص ’صاحب ‘ کی میز کے سامنے کھڑے تھے۔ اچانک میرے ذہن میں ایک بجلی سی کوندی کیونکہ ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو مجھے جانا پہچانا سا لگا، لیکن ،، کہاں ،، کہاں ، میں ذہن پر زور دینے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا اوریادوں کا ایک کارواں سا صاف اور واضح میری نگاہوں سے گذرنے لگا ۔مجھے یاد آیا کہ ہائر سیکنڈری میں فسٹ ، سیکنڈاور تھرڈ ایئرمیں میرا کلاس فیلو رہا ہے۔میں نے اپنی مشکلات کی وجہ سے تعلیمی سفر کا اختتام کیا تھا اور میرا یہ یار آگے کالج اور پھر یونیورسٹی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد جونئر لیکچرار تعینات ہوا تھا ،اورکسی دوست نے بتایا تھا کہ بعد میں بحیثیت پرنسپل کے ریٹائر ہوا تھا ۔ بڑی مدت کے بعد، اگر چہ چہرے میں تبدیلیاں عمر کا لازمی جز ہے، پھر بھی میں نے ا سے ایکدم ہی پہچان لیا اور فوراً ہی اپنے آفس سے باہر آکر اس کے سامنے کھڑا ہوا ۔ ایک لمحے تک تو وہ بھی مجھے دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا لیکن اس کی یاداشت بھی کافی اچھی تھی ایکدم ہی میرا نام لیتے ہوئے گلے مل گیا ، در اصل ہم ایک ہی قطارکے ڈسکوں پر کئی سال سکول میں رہے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی پردہ داری نہیں تھی ۔
’’ آو میرے آفس میں بیٹھ کر بات کریں گے ‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا
’’اچھا تو یہ تمہارا ہی کا مپلیکس ہے ،بہت خوشی ہوئی ‘‘سامنے لگے ہوئے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس کہا ۔’’نہیں ،میں یہاں کام کرتا ہوں ‘‘ میں نے آفس بوائے کوچائے کے لئے کہہ دیا ۔
در اصل میرا یہ یار میرے ہی قصبے کا نہیں تھا بلکہ یہاں اس کے ماموں جان رہتے تھے اور یہ ان کی دیکھ ریکھ میں ہی کالج تک ان کے ساتھ رہے۔ اسی لئے کبھی ہم ہائر سیکنڈری دُور کے بعد نہیں ملے ۔ میں بھی اپنے روز گار کی تلاش میں کچھ زیادہ ہی مصروف رہا۔، چائے آگئی تو میںنے دوست سے پوچھا ’’ بتاو یار کیا کر رہے ہو ، کیسے گذر رہی ہے ، گھر میں کو ن کون ہیں ‘‘
’’سلیم ، میں تو بتاوں گا لیکن پہلے تم اپنی کہو ‘‘ میرے یار ماجد نے ہنس کر کہا۔
’’یہ تو جانتے ہی ہو کہ کالج لائف قسمت میں نہیں تھی، کبھی یہاں کام کیا کبھی وہاں، اپنا کوئی مستقل کام نہیں رہا ، کوشش کی تھی ایک دو بار لیکن کوئی خاص نہیں کر پایا ، بزنس چلانے کے لئے جس طرح کا سرمایہ چاہئے تھا وہ کبھی میرے پاس نہیں رہا۔ دو بچے ہوئے ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔ شکر ہے کہ بچی کی شادی کر چکا ہوں اور بیٹا ایم ٹیک کے بعدبنگلور و کی ایک بڑی کمپنی میں جاب کر رہا ہے ۔ اسکی شادی بھی ہوچکی ہے اور دونوں میاں بیوی ایک ہی کمپنی میں کام کر رہے ہیں اور ہم میاں بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔ بس میری اتنی کہانی ہے ،میں نے ایک لمبی سانس لی۔’’ہاں تو بتائو کیسے گذرہی ہے ‘‘ ،،، میں نے مسکرا کر آخری چسکی لی اور کپ نیچے رکھا ،، میرا دوست کچھ لمحات تک مجھے دیکھتا رہالیکن اس بار ان نگاہوں میں کیا تھا میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ چہرے کی اس دھوپ چھائوں کو میں کوئی نام نہیں دے پارہا تھا، میں کئی لمحے خاموش رہا ،،،گھر گھر کی کہانی ،،، یہی ہے گھر گھر کی کہانی ،، وہ مسکرایا اور پھر ہنس کر کہا ’’ میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، بیٹی کی شادی کر چکا ہوں اور ماشااللہ اپنے گھر میں سُکھی ہے ، ایک بیٹا سعودی عرب میں ڈاکٹر ہے ، اس کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے اور وہ فیملی وہاں سمجھو سیٹل ہے ۔ دوسرا بیٹا واشنگٹن میں ڈاکٹر ہے ، اس نے وہیں شادی کی ہے ، گرین کارڈ حاصل کر چکا ہے اور کبھی کبھی یہاں آٹھ دس روز مہمانوں کی طرح آجاتا ہے۔ تیسرے بیٹے نے زیادہ نہیں پڑھا ، تم جانتے ہو کہ میرے والد صاحب کا اچھا خاصا بزنس تھا ، ملازمت کے دوران اور پھر ریٹائر منٹ کے بعد پوری طرح میں نے ہی یہ ذمہ داریاں سنبھالی۔ یہاں رک کر پتہ نہیں کیا سوچ کر میرا یار خود ہی ہنس پڑا،پھر خود ہی کپ نیچے رکھ کر سلسلہ کلام جاری رکھا ، ’’ہاں تو پچھلے برس ایک دن مجھے خیال آیا کہ اب یہاں سے بھی مجھے ریٹائر منٹ لینی چاہئے ، بس پھر کیا تھا ، ایک صبح بیٹے کے ساتھ حسب معمول ہی دکان پر آیا ، سارے کھاتے اور لین دین اُسے سمجھائے، اور کہا کہ بیٹا اب تم ہی میری جگہ میری کرسی پر بیٹھ کر اپنے ڈھنگ سے یہ بزنس سنبھالو ‘‘۔ بس پھر کبھی کبھی ہی پانچ دس منٹ کے لئے دکان کی طرف آتا ، گھر میں بور تو نہیں ہوا لیکن گھر کی دیواروں کو کئی برس سے پینٹ نہیں کر وایا تھا ، یہ بات جو سوجھی تو ، رنگ روغن اور لیبر کو ارینج کرکے کام شروع کروایا ۔ ظاہر ہے کہ دکان پر گیا ، ڈرائر کھولا ، نوٹوں کی دو گڈیاں جیب میں رکھ لیں ، ،، دس بارہ دنوں کے بعد پھر یہی عمل دہرانا پڑا اور شاید ایک مہینے کے بعد سارا حساب فائنل کرنے کے لئے پھر ڈرائر کھولا اور دس دس ہزار کی دو گڈیاں اٹھائیں ، لیکن اچانک میرے اچھے اور فرمانبردار بیٹے نے میری طرف نگاہیں اٹھائیں ، میں نہیں جانتا کیا ہوا ، بس مجھے ایک کرنٹ سا لگ گیا ،میرے احساسات جھنجھنا کر رہ گئے۔ اس نے کچھ نہیں کہا تھا بس ایک نظر اٹھاکر مجھے دیکھا تھا ، ، شاید شفقت کی نگاہ ، شاید محبت کی نگاہ یا ان نگاہوں میں کوئی سوال بھی تھا؟میرے ہاتھ کئی لمحوں تک ڈرائر ہی میں مفلوج رہے ، شاید میں غلط کر رہا ہوں کیونکہ میں کاونٹر چھوڑ چکا ہوں ۔ بس یہی ایک آواز مجھے اپنے اندر گونجتی ہوئی سی محسوس ہوئی،،، اس کے بعد اب کبھی کبھی ہی دکان پر پانچ دس منٹ کے لئے جاتا ہوں ‘‘ میرا دوست خاموش ہوا ، لیکن میں نے فوراً ہی پوچھا ،یہ تو تم نے بتایا نہیں کہ گھرمیں اب کیا کر رہے ہو ، وقت کیسے گذرتا ہے ؟ میرے لہجے میں تجسس تھا’’قبلہ کس طرف ہے ‘‘ ماجد نے اچانک پوچھا۔ میں بے اختیار ہنس پڑا، ’’یار یہ قبلے کی کیا سوجھی ہے ، ویسے تم قبلہ رو ہی بیٹھے ہو ‘‘ماجد کھڑا ہوا ، دعا کے انداز میں دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا۔ ’’میں اس سے دعا دیتا ہوں جس نے پنشن مقرر کی تھی‘‘ میں صم بکم ، رہ گیا۔ کئی لمحوں تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا اور جب لمحو ں کے بعد سمجھا تو زندگی کی ساری کتاب اور ہزاروں کہانیاںاپنی اور دوسروں کی میرے ذہن کے پردوں پر فلم کی طرح رواں دواں تھیں جہاں میری جنریشن کا کرب ایک جیسا تھا ۔
���
سوپور، بارہمولہ کشمیر