عظمیٰ نیوز سروس
راجوری //پیر پنچال کے وسیع پہاڑی اور میدانی علاقوں میں منگل کے روز موسم نے اچانک کروٹ لی جس کے نتیجے میں میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی گئی۔ صبح سویرے سے ہی آسمان پر گہرے بادل چھائے رہے اور دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس نے پورے خطے میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔موسمیاتی تبدیلی کے اس تازہ سلسلے نے جہاں لوگوں کو گرم کپڑوں کا دوبارہ سہارا لینے پر مجبور کیا، وہیں کسان طبقے کے لئے یہ بارش کسی نعمت سے کم نہیں سمجھی جا رہی۔ زرعی ماہرین کے مطابق حالیہ بارش گندم کی فصل کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوگی کیونکہ اس وقت فصل نشوونما کے اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
نمی کی مناسب مقدار زمین میں جذب ہونے سے پودوں کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور پیداوار میں بہتری متوقع ہے۔پہاڑی علاقوں، خاص طور پر بلند مقامات پر، برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ گیا ہے۔ برف باری کے باعث سرد ہواؤں میں اضافہ ہوا ہے اور کئی دیہی علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں شدید ٹھنڈ محسوس کی جا رہی ہے ۔میدانی علاقوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے خشک سالی جیسے حالات کو کسی حد تک کم کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پانی کی کمی کے باعث کسانوں کو فصلوں کی آبپاشی میں دشواری کا سامنا تھا، لیکن حالیہ بارش نے اس پریشانی میں واضح کمی کر دی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا تو اس سال گندم کی پیداوار بہتر ہونے کی امید ہے۔شہری علاقوں میں بھی موسم کی تبدیلی نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔ صبح کے وقت دھند اور بادلوں کی وجہ سے حدِ نگاہ متاثر رہی جبکہ دن بھر ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں۔ بازاروں اور سڑکوں پر لوگوں کی آمد و رفت معمول سے کم دیکھی گئی، خاص طور پر بزرگ افراد اور بچے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے نظر آئے۔مجموعی طور پر حالیہ بارش اور برف باری کو پیر پنچال خطے کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ماحول کو خوشگوار بنا رہی ہے بلکہ زراعت اور پانی کے ذخائر کیلئے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہو رہی ہے۔