جموں//راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف و سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے سے قبل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیاہے۔آزاد نے حال ہی میں نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی جس دوران جموں و کشمیر خصوصاً کشمیر کے متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم مودی سے اس ملاقات کے حوالے سے کشمیرعظمیٰ کو بتایا ’’جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر راج کے تحت کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے ، یہاں تک کہ خصوصی حیثیت کے خاتمے کو تقریباًایک سال بیت چکاہے‘‘۔آزاد نے کہا ’’ترقیاتی سرگرمیاں اسی وقت ہوتی ہیں جب منتخب حکومت ہوتی ہے ، منتخب نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں دوبارہ انتخابات کیلئے عوام کے پاس واپس جانا پڑتا ہے، لہٰذا ، وہ عوامی مسائل کے ازالے کے لئے کوشاں رہتے ہیں جو لیفٹیننٹ گورنر کے راج میں نظر نہیں آرہا ہے‘‘۔آزاد کاکہناتھا’’آج جموں وکشمیر میں افسران حکومت چلا رہے ہیں اوراسی وجہ سے ترقیاتی سرگرمیاں رک گئیں ہیں‘‘۔آزاد نے وزیر اعظم سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’آپ نے پارلیمان کے ایوان میں ریاست جموں و کشمیر کی بحالی کا وعدہ کیا تھا اور آپ کو اس کی تکمیل کرنی چاہئے اور پھر اسمبلی انتخابات کروائے جائیں ‘‘۔انہوںنے مزیدبتایا ’’میں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ اگر وہ ریاستی درجہ کی بحالی سے پہلے اسمبلی انتخابات کراتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت مرکزی زیر انتظام علاقہ میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی‘‘۔انہوں نے کہا’’مرکزی زیر انتظام علاقہ میں کوئی بھی وزیر اعلیٰ یا ایم ایل اے نہیں بننا چاہے گا ، خاص طور پرسنجیدہ سیاسی جماعتوں سے‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ کاکہناتھا’’سنجیدہ سیاسی جماعتیں شائدیوٹی میں الیکشن لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گی کیونکہ انہیں ہر معاملے پرلیفٹیننٹ گورنر کورپورٹ کرنا ہوگا، ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، لہٰذا انتخابات کا انعقاد ترقی کے لئے اہم ہے لیکن انتخابات سے قبل ریاست کی بحالی بہت ضروری ہے‘‘۔آزاد نے بتایاکہ انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیاکہ ریاستی درجہ بحالی کے بعد دو سے تین ماہ کے اندر اندر اسمبلی انتخابات کروائیں۔انہوں نے وزیر اعظم کو یہ پیغام پہنچایا کہ جموں و کشمیر کے دونوں خطوں میں کوئی بھی مرکزی علاقہ کی حیثیت سے خوش نہیں ہے اور سب ریاستی درجہ کا حصول چاہتے ہیں۔
سیکورٹی کی فراہمی
غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کئے جانے کے بعدکشمیر میں متعدد عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وادی میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔آزاد نے کہا ’’میں نے پچھلے 30سال میں کبھی نہیں دیکھا ہے کہ اگر عسکریت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے تو لوگوں سے سیکورٹی کور اور بلٹ پروف گاڑیاں واپس لے لی گئی ہوں ، خاص طور پر سیاستدانوں سے جنہیں عسکریت پسندوں سے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم ان لوگوں کو مناسب حفاظتی کور فراہم کرتے تھے جنہیں کشمیر میں ہمارے اوقات میں عسکریت پسندوں سے اپنی جان کو کسی بھی خطرہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘‘کانگریس رہنمانے کہا’’اس کے برعکس ہم نے
دیکھا ہے کہ وادی میں عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ ہی سیاستدانوں سے سیکورٹی اہلکاراورگاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں۔‘‘انہوں نے ان سیاستدانوں کیلئے سیکورٹی کور کا مطالبہ کیا جن سے یہ سیکورٹی واپس لی گئی ہے۔