عشرت حسین بٹ
پونچھ//ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پونچھ میر وجاہت کی عدالت نے ایک اہم اور سنسنی خیز قتل مقدمے میں ملزم محمد اسلم ولد محمد بشیر ساکن دارہ دلیاں، تحصیل حویلی، ضلع پونچھ کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایف آئی آر نمبر 141/2019 کے تحت درج مقدمے کی طویل سماعت اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سنایا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم کو 20 مئی 2026 کو دفعہ 302، 452 اور 323 رنبیر پینل کوڈ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق 2 ستمبر 2019 کو گائوں منگناڑمیں ملزم نے مقتول اشتیاق حسین ولد اکبر حسین کے گھر میں داخل ہوکر اس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی، جبکہ مقصود حسین اس حملے میں زخمی ہوگیا تھا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر ثبوتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزم نے دانستہ طور پر مقتول کے گھر میں داخل ہوکر حملہ کیا اور شدید تشدد کے بعد قتل کی واردات انجام دی۔ عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ ملزم اس سے قبل بھی کئی مرتبہ مقتول کے گھر جا چکا تھا اور دھمکیاں دیتا رہا تھا، جس سے اس کے ارادے اور جرم کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے تاہم عدالت نے سزائے موت سنانے کے بجائے عمر قید کی سزا عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ’ریئرسٹ آف ریئر‘یعنی انتہائی نادر نوعیت کے جرائم کے زمرے میں شامل نہیں ہوتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے سزا کا تعین کرتے وقت ملزم کے سماجی اور خاندانی حالات کو بھی مدنظر رکھا۔ عدالت کے مطابق ملزم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے، وہ ایک غریب زرعی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور چار کمسن بچوں کا باپ ہے۔عدالت نے دفعہ 302 رنبیر پینل کوڈ کے تحت ملزم کو عمر قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اسی طرح دفعہ 452 کے تحت دو سال کی سخت قید اور 5 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 323 کے تحت چھ ماہ کی سخت قید اور 2 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔فیصلے میں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عمر قید کا مطلب اصولی طور پر پوری زندگی جیل میں رہنا ہوتا ہے، تاہم آئین اور قانون کے تحت معافی یا قبل از وقت رہائی کا اختیار حکومت کے پاس محفوظ رہے گا۔عدالت نے مقتول اشتیاق حسین کی بیوہ سکینہ بیگم اور والدہ نذیرا بیگم کے لیے معاوضے کی سفارش بھی کی۔ اس سلسلے میں ضلع قانونی خدمات اتھارٹی پونچھ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کو وکٹم کمپنسیشن اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ مالی امداد فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔عدالت نے ملزم محمد اسلم کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے حق سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اگر وہ وکیل مقرر کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے سرکاری سطح پر قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔