پلوامہ// ترال اور پلوامہ کے ڈگری کالجوں کے طلبہ نے بدھوار کواُس وقت اپنے ہم جماعتوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جب اُنہیں پولیس کی نگرانی میںامتحان میں شرکت کرنے کیلئے امتحانی مرکزلایا جارہا تھا۔پولیس نے اس موقعہ پر احتجاج کرنے والے طالب علموں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کی اور کئی طلبہ کو گرفتار بھی کیا۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ چند ماہ قبل سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے ترال کے ڈار گنائی گنڈ سے تعلق رکھنے والے پانچویں سمسٹر کے ایک طالب سمیر احمد لون ولد غلام محمد لون کوگرفتار کیا جوگزشتہ کئی ماہ سے سنٹرل جیل سرینگر میں مقید ہے جس کو گزشتہ کئی روز سے امتحان میں شرکت کے لئے ڈگری کالج ترال میں اس کے امتحانی مرکز تک پولیس کی نگرانی میں لایا جا رہا ہے۔عینی شاہدین نے بتایا جب طالب علم کو امتحانی حال سے واپس لیجایا جا رہا تھا تو یہاں اس کے متعدد ہم جماعتی لڑکے اس کے ارد گرد جمع ہونے لگے جبکہ پولیس نے انہیں دو رجانے کے لئے کہا جس کے ساتھ ہی یہاں موجود گرفتار طالب علم کے ہم جماعتی طالب علموں نے احتجاج کر کے اس کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران پولیس نے امن و قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے طلباء کو لاٹھی چارج کر کے منتشر کر کے کئی طالب علموں کی گرفتاری عمل میں لائی تاہم بعد میں کالج میں کام کاج معمول کے مطابق چلتا رہا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ایک قیدی طالب علم کو امتحان میں شرکت کے لئے لایا گیا تھا جس دوران کچھ طالب علموں نے ’’ہوٹنگ‘‘شروع کی ہے جس کے بعدپولیس نے طلباء کوتتر بتر کرنے اورامن وقانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے بتایا اس واقعے میں کئی طالب علموں کو گرفتار کیا گیاتاہم انہوں نے ان کی تعداد نہیں بتائی ۔ پولیس نے بتایا جنگجویت کے معاملے میں قید ڈار گنائی گنڈ آری پل سے تعلق رکھنے والے ایک طالب کوپانچویں سمسٹر کے امتحان میں شرکت کے لئے پولیس نے جیل سے کالج لایا تھا اور امتحان کے بعد طالب علم جب امتحانی مرکز سے باہر آرہا تھا ،اس دوران یہاں کچھ طالب علموں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔انہوں نے بتایا اس حوالے سے ایک کیس زیر نمبر19/2021درج کیاگیاہے ۔ادھر گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ کے باہر فورسز اور طلاب کے مابین بدھ کو اس وقت جھڑپیں شروع ہوئی،جب پولیس نے ایک سال قبل گرفتار کئے گئے ایک نوجوان کو امتحان میں شامل ہونے کیلئے ڈگری کالج کے امتحانی مرکز میں داخل کیا۔ذرائع کے مطابق اس دوران کالج کے طلاب مشتعل ہوگئے اور انہوں نے طالب علم کی نگرانی پر مامور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا۔پولیس نے اگر چہ ابتدائی طور زبردست صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم جب مشتعل نوجوانوں نے پتھراؤ میں شدت لائی تو انہوں نے آنسولانے والی گیس کے گولے داغ کر انہیں منتشر کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ادھر پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایک سال قبل ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ملزم سہیل احمد ساکن سرنو پلوامہ کو امتحانی مرکز میں لایا جارہا تھا کہ اس دوران جس گاڑی میں مذکورہ طالب علم سوار تھا اس پر شرپسند عناصر نے پتھراؤ کیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ حالات کو جلد ہی قابو میں کرلیا گیا جبکہ مزید کسی نا خو شگوار واقعہ کو ٹالنے کیلئے امتحان ختم ہونے تک مرکز کے باہراضافی نفری کو تعینات کردیا گیا تھا۔