پونچھ//جموں و کشمیر میں آج بھی کئی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں بجلی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے لوگ ترس رہے ہیں۔ضلع پونچھ سرنکوٹ کے پنچائت اپرسنئی کے محلہ مغلاں پنیالی تکیہ کی آبادی اس جدید دور میں بھی بجلی جیسی بنیادی ضرورت کی کمی سے دوچار ہے۔مقامی آبادی نے بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور محکمہ بجلی کی شدید تنقید کی۔ مقامی سماجی و سیاسی کارکن جہانگیر احمد مغل نے کہا کہ بجلی سے محروم ہونے کے سبب ان کے بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو رہا ہے اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سرکار انکی جائز مانگ کو پورا کیوں نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ از خود اور ذاتی خرچ سے بجلی کی تار لگا کر اپنے گھر تک بجلی کا کنیکشن لے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عوام کی پرزور اپیل کے بعد وہاں نیا ٹرانسفارمر نسب کیاگیا ہے اور اس سے گائوں کے ایک طرف بجلی کی فراہمی بھی کی جا رہی ہے لیکن ان کے محلہ کو صرف تین پول اور تار دستیاب نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے درجنوں کنبے بجلی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے پولوں کے لئے وہاں گھڈے بھی بنائے گئے ہیں لیکن صرف تین پول دستیاب نہیں کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بار ہا محکمہ بجلی کے افسران اور انجینئر صاحبان سے تین پول اور تار فراہم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں اور انہوں نے وعدہ بھی کیا لیکن وعدہ آج تک وفا نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ان کے اس محلہ میں اکثریت غریبی کی سطح کے نیچے کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ بجلی سے علاقے میں بجلی کی سپلائی کو یقینی بنائے جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلند و بانگ سرکاری دعوئوں کے باوجود ضلع پونچھ کے دور افتادہ دیہات میں بجلی نہ ہونے سے لوگ روایتی طریقوں سے ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے گائوں میں بجلی کے پول اور تارفوری فراہم کر کے وہاں بجلی کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ لوگ بڑی سطح پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔