راجوری//پلمہ اور گردونواح کی آبادی نے فوج پر پانی کی سپلائی سکیم میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے راجوری ۔کوٹرنکہ سڑک کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند کرکے فوج کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا ۔گائی پلمہ ، ڈنہ پلمہ ، مال پلمہ و دیگر علاقوںسے بڑی تعداد میں لوگ سابق سرپنچ حاجی عالم حسین کی قیادت میں پلمہ پارک کے نزدیک کوٹرنکہ ۔راجوری سڑک پر جمع ہوئے اور انہوںنے روڈ پر ٹریفک کی آمدورفت بند کرکے نعرے بازی کی ۔اس دوران مظاہرین نے ٹائر بھی جلائے ۔اس دوران ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے مظاہرین نے کہاکہ کئی سال قبل علاقے میں پانی ذخیرہ کرنے کا ایک ٹینک تعمیرکیاگیاتھا تاہم یہ ابھی تک ناقابل استعمال بناہواہے ۔انہوںنے کہاکہ حال ہی میں حکومت کی طرف سے ایک نئی سپلائی سکیم کو منظوری دی گئی ہے جس کیلئے اسی ٹینک کواستعمال کیاجاناہے اوراس مقصد کیلئے ایک پائپ لائن بچھانا درکار ہے جس میں فوج رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ ان کاکہناتھاکہ اس نئی پائپ لائن پر صبح کام جاری تھا جس دوران فوج نے رکاوٹ پیدا کرکے کام رکوادیا اور اس اراضی پر پائپ بچھانے پر اعتراض کیا جہاں یہ کام ہورہاتھا۔انہوںنے کہاکہ علاقے میں قائم رومیو فورس اور ٹیریٹوریل آرمی کیمپوں کی وجہ سے وہ متاثر ہورہے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں بھی ہے کہ فوج اس اراضی پر اپنا حق جتلا کر کام نہیں کرنے دے رہی ۔مظاہرین نے یہ شکایت بھی کی کہ فوج اپنی تحویل میں ان کی اراضی کامعاوضہ بھی نہیں دے رہی اور تاخیری حربے اختیار کئے جارہے ہیں ۔یہ احتجاج ایک گھنٹے سے زائد عرصہ تک جاری رہا جس کے بعد اے سی محکمہ مال عبدالقیوم میر ، اے سی ڈیفنس رمکیش شرما، تحصیلدار راجوری اور ایس ایچ او راجوری موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے مظاہرین سے بات چیت کرکے دھرنا ختم کروایا جبکہ افسران کی ایک ٹیم نے بچھائی جارہی پائپ لائن کا بھی معائنہ کیا ۔افسران کی یقین دہانی پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کیا اور اس کے ساتھ ہی گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ بحال ہوا۔ضلع انتظامیہ کے مطابق لوگوںنے مطالبات پورے ہونے کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا ۔قیوم میر نے بتایاکہ مقامی لوگ فوج کی طرف سے پائپ لائن بچھانے کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور ان کا معاوضہ بھی کئی ماہ سے زیر التوا ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں زیادہ ہی غم وغصہ پایاجارہاہے ۔