صحافت جِسے جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا رہا ہے ایک صحت مند اور پُر مغز سماج میں عام شہریوں کی ترجمان ہوتی ہے ۔صحافت بعض اوقات حاکمِ وقت کو بھی کٹھرے میں کھڑا کرسکتی ہے تاکہ مظلوم کو انصاف اور حقدار کو اُس کا حق مِلے۔شاید اسی لئے صحافی اور صحافتی اداروں کا بے باک ہونا بہتر اور اُن کا آزاد ہونا لازمی ہے ۔ دنیا کے لگ بھگ سبھی ممالک اور اقوام اس امر پہ متفق ہیں کہ صحافیوں کا آزاد انہ ماحول میں کام کرنا ضروری ہے لِہٰذا صحافتی اداروں کو بااختیار بنانے اور اُن کے آزادانہ کام کاج کو یقینی بنانے کے لئے بیشتر ممالک میں مختلف قوانین نافظ العمل ہیں ۔ لیکن بے باکی و آزادی کے ساتھ کام کرنے کے اس حق کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو چند ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں اور چند ایک چیزوں کی بندشیں بھی ہیں تاکہ اخلاقی معیار سے ایک صحافی نہ گِرے۔اپنے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کو صحیح صحیح سمجھنے والے جان نثار اور سچائی پہ مر مِٹنے والے صحافیوں نے کئی بار جعلی مسیحائوں کے چہرے سے نقاب ہٹانے اور عوام کو با خبر رکھنے کی کشمکش میں جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔بات یہ کہ صحافی کی زندگی ایک عام شخص کی زندگی سے مُختلف ہوتی ہے جہاں ذاتی جذبات اور پسند ناپسند کو یک طرف چھوڑکر خالص حقائق کو عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب جہاں سائینس و تکنالوجی نے ترقی کے زینے عبور کئے ، وسائل وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے صحافت میں بھی انقلاب رونما ہوا ۔ پرنٹ میڈیا (Print media)اور الیکٹرانک میڈیا(Electronic media) کے شانہ بہ شانہ سوشل میڈیا نے بھی صحافت کو ایک نئی سِمت دی۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بھاری تعداد نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے لوکل چینلز کو فروغ دیتے ہوئے صحافی ہونے کا عملاََ اعلان کیا۔ اس سے اگرچہ خبروں کی ترسیل میں حد درجہ سُرعت آئی لیکن اس سے صحافت کا تقدس تشویشناک حد تک پامال ہوا۔
بات خالصتاََ صحافت کی کریں تو اس پیشے پر پچھلے چند سالوں سے دنیا بھر میںبالعموم اور بھارت میں بالخصوص انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا خاصا اثر پڑا ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ صحافت پر مثبت اثرات سے زیادہ سوشل میڈیا نے منفی اثرات ہی مرتب کئے۔گھر گھر صحافیوں نے جنم لیا اور ہر پل ایک نئی خبر مِلنا شروع ہوئی ،جِن میں سے بیشتر خبریں بغیر سند اور بغیر تحقیق کے لوگوں تک پہنچائی گئیں۔ کسی بھی ہوشمند انسان کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ایک طرف جہاں ایک ایسا نوجوان صحافت کا لِبادہ اوڑھے عوام کی خِدمت کر رہا ہو جِس نے کئی سال تک کسی تسلیم شُدہ ادارے سے سند حاصل کرتے ہوئے صحافت کی تکنیکی نکات کو باریکی سے سیکھنے اور اس سے جُڑے اخلاقیات کو سمجھنے میںاپنا قیمتی وقت صرف کیا ہو اور دوسری طرف صحافت کے بنیادی اصول سے بھی نا آشنا ایک شخص جِس کا لب و لہجہ کِسی بھی طرح سے ایک صحافی کے جیسا نہیں صحافت کا چولا پہن کر عوام کو گُمراہ کر رہا ہو، اس میں کس کی بات کو سُننا بہتر ہے اور کِسے فوقیت دینا لازمی ۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص جِسے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرنا یا کیمرہ کے سامنے ناٹک کرنا آتا ہو صحافی بن سکتا ہے تو پھر چند سال یونیورسٹی میں قید ہو کر ہونہار نوجوان لاکھوں روپے کِس چیز کے لئے کھپا رہے ہیں؟ اگر بِنا ڈگری کے صحافی بنا جا سکتا ہے تو بِنا MBBS کئے ڈاکٹر اور بِنا B.Ed/ M.Edکے استاد بننے کو عیب کیوں مانا جائے؟ اگر یہ ڈگریاں کسی کام کی نہیں تو ڈگریوں کا کلچر سِرے سے ہی ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ۔
ان سوالوں کا جواب تلاشنے سے قبل صحافت کے اِس تشویشناک پھیلائو کے اُن منفی اثرات کا جائزہ لیں جو عام طور پر بھارت بلکہ کشمیر میں دیکھنے کو مل رہے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ یہ سوال کتنے اہم ہیں ۔ جیسا راقم الحروف مضمون ھٰذا میں پہلے بھی عرض کر چُکا کہ گھر گھر نِت نئے صحافیوں نے جنم لیا،جنہیں صحافت کے بنیادی اصولوں کی آشنائی بھی نہیں تھی ۔ صحافی بے باک ہونے سے زیادہ آوارہ ہو گئے اور اُن کے مزاج میں غیر سنجیدگی آنے لگی۔مائیک اور کیمرہ اُٹھائے صحافی کے لئے کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی میں دخل دے کر اُس کی تذلیل کرنا معمول بن گیا ۔ اسی بیچ Sting Operation کا کلچر بھی عام ہوا،جس میں کسی بھی غیر قانونی کام یا سکینڈل (Scandal) کو تشت از بام کرنے کی غرض سے اُس میں ملوث شخص کا خفیہ ویڈیو بناکر اسے قانونی کاروائی کے لئے استعمال کرنے اور عدالت یا پولیس کے سامنے پیش کرنے کے بجائے براہِ راست سوشل میڈیا پہ مشتہر کیا جانے لگا اور اس سب کے پسِ پردہ پروان چڑھا Blackmailing کا ایک جان لیوا دھندا۔نتیجتاً کروڑوں کا گھپلہ کرنے والے ٹھگ پیدا ہوئے ۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ حال ہی میں اپنے آپ کو صحافی کہنے والے ایک سوشل میڈیا ایکٹِوِسٹ (Social Media Activist) کا پردہ فاش ہوا، جس نے اطلاعات کے مطابق غریبوں کی مالی امداد کی آڑ میں کروڑوں روپئے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ مذکورہ سوشل میڈیا صحافی نے کئی لوگوں جن میں چند نقلی ڈاکٹر اور نقلی پیر بھی شامل تھے کو سٹنگ آپریشن کی آڑ میں ذلیل کیا تھا یہاں تک کہ کئی نقلی ڈاکٹروں کا آن کیمرہ پریڈ بھی کرایا ،حالانکہ اُن تمام تر معاملات میں ایک سادہ سا پولیس کیس درج کر کے اُن گھپلہ کرنے والوں اور نقلی ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کرائی جا سکتی تھی۔ عوام کو دھوکہ دینے والے نقلی ڈاکٹر اور نقلی پیروں کو بے نقاب کرنا اگرچہ غلط نہیں ہے لیکن غیر اسلامی و غیر اخلاقی طرز پر کسی شخص کو ذلیل کرنا اور اُس کا آن کیمرہ پریڈ کرانا ایک سنجیدہ صحافی کے لئے قطعی شایانِ شان نہیں ہے بلکہ یہ سراسر بچگانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پچھلے چند برسوں میں کسی بھی عمر اور Qualification کا مالک شخص کسی بھی ادارے میں داخل ہو کر وہاں موجود عملے سے ناشائستہ انداز میں گفتگو کر کے فیس بُک پر لائیو نشر کرنے کو صحافت کا حصہ ماننے لگے ہیں۔ ایسا اکثر سُننے میں آیا کہ کسی نامعلوم فیسبُک چینل سے تعلق رکھنے والے نامہ نگاروں نے تعلیمی ادارے میں داخل ہو کر اساتذہ کے ساتھ ناقابلِ برداشت لب و لہجے میں بات کی اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس نامعقول گفتگو کو فیسبُک پر لائیو مشتہر کر کے سامنے والےشخص کی تذلیل کی۔ کئی بار منفی خبر وائیرل کرنے کی دھمکی دے کر تعلیمی اداروں اور سادہ طبیعت لوگوں سے پیسے بھی اینٹھے گئے یا یوں سمجھیں کی ہفتہ وصولی کی گئی۔حد تو یہ ہے کہ کسی احترام و تعظیم کا مستحق ایک اُستاد بھی ہو تو اُس کے ساتھ آن کیمرہ یوں سوال و جواب کیا جاتا ہے گویا وہ جیل سے چھوٹا کوئی مجرم ہو جبکہ بچگانہ، نامعقول اور ناشائستہ حرکتیں کرنے والے افراد کا انٹرویو اس طرح لیا جاتا ہے کہ وہ بچگانہ اوربے وقوف ہونے کے باوجود راتوں رات Celebrity بن جاتے ہیں۔
اِن تمام تر معاملات سے اگرچہ صحافت کے جملہ طبقے پر سوال اُٹھانا جائز نہیں ہوگا لیکن صحافت کی اعتباریت پر سوالیہ نشان ضرور لگتا ہے بلکہ یہ کہنا مغالطہ نہیں ہوگا کہ صحافت کی اعتباریت خطرے میں ہے۔ وقت رہتے کوئی تدبیر نہ کی گئی تو بچی کھچی ساخت بھی ختم ہو جائے گی۔ کم سے کم صحافت میں جُڑے افراد کے لئے لازمی بنایا جائے کہ اُن کے پاس ایک تسلیم شُدہ ادارے کی طرف سے ملی سند ہو نیز انہوں نے کسی قابلِ اعتبار میڈیا ادارے میں انٹرنشِپ کیا ہو۔ علاوہ ازیں لائیو اسٹریمنگ (Live streaming ) اور سٹنگ آپریشن (Sting operation ) کے لئے راہنما خطوط مرتب کئے جائیں اور اُن کی عمل آوری کو ناگزیر بنایا جائے تاکہ صحافت کے نام پہ بلیک میلنگ(Blackmailing) اور بد اخلاقی مزید نہ ہو ۔
ہردوشیواہ زینہ گیر ـ
فون نمبر۔9149468735