سرینگر // انسانوں اورپرندوں کے درمیان آپسی رشتہ صدیوں پرانا ہے لیکن وادی میں برڈ فلو کی دستک سے اس رشتہ میں تھوری دوری پیدا ہوگئی ہے۔حکومتی سطح پر یہ ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے کہ پرندوں کو ہاتھ لگانے اور انکے نزدیک جانے سے پرہیز کیا جائے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں کے آس پاس پائے جانے والے پرندوں کو دانہ ڈالنے سے پرہیز نہ کیا جائے بلکہ انہیں وقت وقت پر دانہ ڈالنا اخلاقی فرض ہے کیونکہ پرندے ہمارے ماحول کا ایک لازمی حصہ ہیں، جن کے بغیر ماحولیاتی توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔حال ہی میں جموں کشمیر سمیت9ریاستوں میں مہاجر پرندوں اور کوئوں میں برڈ فلو کی تصدیق ہو گئی، جس کے بعدحکام نے ایڈوائزری جاری کر دی ۔ ایڈوائزری کے بعد لوگوں میںیہ تاثر پیدا ہو گیا کہ اب انہیں پرندوں سے دوری ہی اختیار کرلینی بہتر ہے۔لیکن وادی میں ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں پرندے ہمارے ماحول کا ایک حصہ ہیں، جنہیں قطعی طور پر انسانوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔دوسری جانب کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاںہر سال لاکھوں کی تعداد میں مہاجر پرندے موسم سرما میںآکر یہاں ڈھیرہ ڈالتے ہیں اور وہ نہ صرف وادی کی قدرتی آبی پناہ گاہوں کو آباد کرتے ہیں بلکہ ان پرندوں کی آمد سے کشمیر کے حسن اور اسکی خوبصورتی دوبالا ہو جاتی ہے ۔یہاں پہلے سے موجود کروڑوں کی تعداد میں مقامی پرندے، جو ہمارے گھروں کے آس پاس رہتے ہیں ، ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔وادی میں ایسے سینکڑوں لوگ ہیں جنہیں پرندوں سے بے پناہ لگائو ہے اور وہ انہیں برسوں سے پالتے بھی ہیں۔ کبوتر پالنے کا شوق کشمیر میں بہت پرانا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہے جنہوں نے اپنے گھروں کے بالائی حصوں کو پرندوں کیلئے ہی مخصوص رکھا ہے۔ایسا کوئی گھر نہیں، جہاں پرندوں کے گھونسلے نہ ہوں۔ ابا بیل کے گھونسلے تو ہر گھر میں موجود ہوا کرتے تھے لیکن ماحولیات میں تبدیلی آنے سے ابا بیل اب کہیں نظر نہیں آتی۔دلی یمنا بائیو ڈائیورسٹی پارک کے انچارج اور ملک کے معروف سائنسدان فیاض احمد کھدسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پرندوں سے ہی دنیا قائم و دائم ہے اگر یہ ہمارے ماحول میں نہیں ہو ںگے، تو زندگی بے مزہ بنے گی ، دنیا کی رعنائیاں ختم ہونگی، بلکہ پوری دنیا ہی ختم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ہمیں خوراک فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام برقرار رکھنے میں ان کا ایک اہم رول ہے۔انہوں نے کہا کہ برڈ فلو مہاجر پرندوں کے ساتھ آتا ہے ،لیکن اس بار ہمارے آس پاس رہنے والے پرندوں میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا ،ابھی تک اس سے کوئی انسان متاثر نہیں ہوا ،لیکن دوری برتنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی پرندوں کو انسان کھانا نہیں دیتے ،بلکہ وہ اپنا کھانا خود تلاش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں برڈ فلو کے پھیلائو کے بعد ہمارا بھی یہ مشورہ ہو گا کہ’ آپ کے گھر کے آس پاس پائے جانے والے پرندوں سے تھوڑی دوری رکھیں، پرہیز رکھنا اور ایک دوسرے کو اس فلو کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے سے ہی ہم اس بیماری سے بچ سکتے ہیں لیکن دور سے دانا ڈالنے سے پرہیز نہ کریں ۔محکمہ اینمل ہسبنڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر پولٹری اورکشمیر میں اس فلو کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہمارے گھروں کے آس پاس رہنے والے پرندے ہمارے ماحول کا ایک حصہ ہیں اور انہیں دانہ ڈالنے میں کسی بھی قسم سے پرہیز نہ کیا جائے بلکہ تھوڑا احتیاط کریں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں دور سے دانہ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص انہیں ہاتھ بھی لگاتا ہے لیکن اس کے بعد انہیں اپنے ہاتھ صابن سے صاف کرنے اور اپنے منہ اور ناک کو ڈھاپناچاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے کورنا کے دوران احتیاط برتی ان ہی ایس اوپیز کو فالو کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک کشمیر میں صرف مہاجر پرندوں اور کوئوں میں ہی اس فلو کی تصدیق ہوئی ہے لیکن گھروں میں پائے جانے والے پالتو پرندوں مرغ ، بطخ اور دیگر پرندوں میں ایسی کوئی شکایت نہیں ہے ۔