یو این آئی
نئی دہلی//پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے سال 2025 کے دوران ماحولیات کیلئے سازگار توانائی تک رسائی بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور تیل و گیس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ جمعہ کو جاری کردہ اختتام سال کے جائزیکے مطابق اس شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔اس سال کی سب سے بڑی خاص بات ‘پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی)کی مسلسل توسیع رہی، جس کے تحت یکم دسمبر 2025 تک کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے ماحولیات کیلئے سازگار ایندھن تک رسائی حاصل کرنے والے مستفیدین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 10.35کروڑ ہو گئی ہے۔ حکومت نے اس سہولت کو ہر گھر تک پہنچانے کے لیے مالی سال 26-2025 کے دوران مزید 25 لاکھ ایل پی جی کنکشنز جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا ہے تاکہ مستحق افراد کو تیزی سے کنکشن مل سکیں۔اجولا یوجنا کے تحت سستی گیس کی فراہمی پر توجہ برقرار رکھی گئی، جہاں مستفیدین کو 14.2 کلوگرام کے سلنڈر پر 300 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، جو سالانہ نو ری فلز (سلنڈر بھروانے)تک محدود ہے۔ اس مدد کی وجہ سے گیس کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے اور فی کس کھپت کی شرح بڑھ کر سالانہ 4.85 ری فلز تک پہنچ گئی ہے۔صارفین کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں بیسک سیفٹی چیک مہم چلائی گئی، جس کے دوران 12.12 کروڑ سے زائد مفت حفاظتی معائنے کیے گئے اور 4.65 کروڑ سے زیادہ ایل پی جی پائپ (ہوز)رعایتی نرخوں پر تبدیل کیے گئے۔ اس مہم سے گھریلو گیس کے استعمال میں حفاظتی معیار اوبیداری کو کافی فروغ ملا ہے۔وزارت نے ایندھن کی فروخت اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا ہے۔ 90,000 سے زیادہ ریٹیل آٹ لیٹس پر ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ 3,200 سے زیادہ موبائل ٹینکرز(بوزرز)کے ذریعے گھر گھر ایندھن کی ترسیل کے نظام کو وسعت دی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)کے شعبے میں بھی تیزی آئی ہے، جہاں فیم-II (ایف اے ایم ای) اسکیم کے تحت تقریبا 9,000 چارجنگ اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ تیل کمپنیوں نے مزید 18,500 سے زیادہ چارجرز لگائے ہیں۔ گیس کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی، جہاں جون 2025 تک قدرتی گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک 25,400 کلومیٹر سے تجاوز کر گیا جو نیشنل گیس گرڈ کے ہدف کے قریب لے جا رہا ہے۔حیاتیاتی ایندھن کے شعبے میں، پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کی اوسط شرح 2024-25 میں 19.24 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے ملک کو 1.55 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی اور کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئی۔