سرینگر//پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سکولوں کی جانب سے چلائی جارہی گاڑیوں کو بند کردیا جائے گاکیوں کہ سکولوں کوکافی مالی مشکلات درپیش ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں چلائے جارہے تمام سکول اس وقت کافی مالی بحران کے شکار ہیں کیوں کہ گزشتہ دو برسوں سے سکول بند رہنے کے نتیجے میں والدین سے ٹیوشن فیس بھی وصول کرنا مشکل بن گیا ہے جبکہ سکولوں کوٹرانسپورٹ فیس بھی ادانہیں کیا گیا اس کے باجود سکولوں کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی سرکار کی طرف سے سکولوں کیلئے کوئی پیکیج دیا گیا ہے۔ سکول سٹاف بشمول ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو ماہاناتنخواہیں اداکرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں سکولوں کیلئے اب بچوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب رکھنا مشکل بن گیا ہے۔ایسوسی ایشن صدر جناب جی این وار نے کہا ہے کہ اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے متفقہ طور پرفیصلہ لیا ہے کہ وہ طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولیت دستیاب نہیں کرپائیں گے۔ ایسوسی ایشن نے اس معاملے میں سرکار کی جانب سے سرد مہری پر بھی سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکارسے بار بار درخواست کی گئی کہ وہ اس معاملے میں نظر ثانی کرے تاہم ہماری اپیل کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ اس معاملے پر عدالت عالیہ نے بھی سرکار سے کہا تھا کہ وہ معاملے پر پھر سے غور رکریں،لیکن آج تک حکومت نے اس معاملے پر توجہ نہیںدی اور نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ دوسری طرف اسکولوں میں ڈرائیوروں اور اس سے وابستہ عملے کی تنخواہ ، ٹیکس ، انشورنس اور بینک کی قسطوں کی ادائیگی جاری ہے، حکومت نے ٹیکسوں یا بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی میں کوئی رعایت نہیںدی گئی۔ جی این وار نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا یہ حتمی فیصلہ ہے، اسلئے والدین سے کہا جاتا ہے کہ اپنے بچوں کو سکول لانے اور لیجانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں۔