جموں //جموں میں گزشتہ دنوں کشمیری مسافروں کی جانب سے مبینہ طورپر پاکستان کے حق میں نعرے بازی کرنے کےخلاف مختلف کالجوں کے طلباءنے تیسرے دن کی کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔گزشتہ پیر کو کچھ طلباءاور گاندھی میموریل سائنس کالج کے طلباءکے درمیان ہوئی نوک جھوک کے دوران پولیس نے معاملہ پر قابو پانے کےلئے لاٹھی چارج کیا تھا تاہم مذکورہ معاملہ پر کئے گئے احتجاج کے دوران طلباءنے مسافروں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی تھی ۔اسی معاملہ کو لے کر جی جی ایم سائنس کالج ،مو لانا آزاد کالج اور دیگر کالجوں کے طلباءنے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پریڈ ،کنال روڑ ،جیول چوک ،توی بریج اور بکرم چوک علا قوں میں احتجاج کیا جس کی وجہ سے مختلف جگہوں پر ٹریفک جام کی وجہ سے عام لوگوں کو مسائل کا سامنا کر نا پڑا۔ ایس ایس پی جموں تیجندر سنگھ نے کہاکہ ملک مخالف نعرے بازی کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں سخت کاروائی انجام دی جائے گی ۔ایک طالب علم سونالی نے کہاکہ وہ ملک مخالف نعرے بازی کرنے والوں کےخلاف کیس درج کرنے کی مانگ کر رہے ہیں تاہم پولیس اس سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ وہ تب تک کلاسوں کا بائیکاٹ کرینگے جب تک مذکورہ معاملہ کے سلسلہ میں مقدمہ درج نہیں کیا جاتا ۔یاد رہے کہ جموں سرینگر قومی شاہرہ بند ہونے کی وجہ سے کئی مسافر و طلباءجموں میں درماند ہ ہو ئے تاہم ان مسافروں کو ہوئی سروس فراہم کرنے کےلئے ہوسٹل میں رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا تھا لیکن ان مسافروں نے مبینہ طورپر کنال روڈ پر رجسٹریشن میں تاخیر کے سلسلہ میں احتجاج کیا ۔اس معاملہ کے خلاف جموں وکشمیر بار ایسوسی ایشن جموں نے بھی ڈسٹر کٹ کورٹ کمپلیکس میں احتجاج کرتے ہوئے پورے معاملہ کی تحقیقات کی مانگ کی ہے ۔