عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// آر ایس ایس کی طرف سے پاکستان کیساتھ مذاکرات کی بات سامنے آنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’یہ ایک بہت بڑا اور مثبت قدم ہے کہ آر ایس ایس سربراہ نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور آج سابق آرمی چیف نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آخرکار کچھ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ہمیں اختلافات کو تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہوگا، کیونکہ امن، استحکام اور عوام کی خوشحالی کا راستہ بھی یہی ہے۔ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب کے حاشئے پر وزیر اعظم کی طرف سے کفایت شعاری کے پیغام اور گاڑیوں کے کاروان کو کم کرنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک توانائی کی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے، اس کمی کیلئے کو برابر کرنے کیلئے ایسے اقدامات ضروری ہے اور ہر کسی کو اپنی گاڑیوں کا کاروان کم کرنا چاہئے۔ اس سے قبل ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ علم انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔انہوں نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت کرنا سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بچوں کو والدین یا اساتذہ کے سامنے بے ادبی کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی، لیکن آج معاشرے میں بزرگوں کے احترام میں واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بعض اوقات بچے اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی تک کرتے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔