عوام کا محکمہ آبپاشی کے خلاف شدید احتجاج؛ فوری مرمت اور مستقل نگرانی کا مطالبہ
محتشم احتشام
پونچھ//چکترو تا ڈینگلہ سینچائی نہر کی مسلسل خستہ حالی نے پورے علاقے کے کسانوں اور مقامی آبادی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نہر کی ٹوٹ پھوٹ، پانی کے ضیاع اور متعلقہ محکمہ کی مبینہ غفلت کے باعث زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کسان معاشی مشکلات کے گرداب میں پھنسنے لگے ہیں۔ عوام نے حکومت اور محکمہ آبپاشی کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نہر کی فوری مرمت، مستقل نگرانی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ چکترو تا ڈینگلہ نہر اس پورے خطے کے لیے زرعی زندگی کی اہم شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، مگر گزشتہ کئی برسوں سے اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی۔ متعدد مقامات پر نہر کی دیواریں ٹوٹ چکی ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث سینچائی کے لیے بروقت پانی دستیاب نہیں ہو پا رہا، جس سے دھان، مکئی اور دیگر موسمی فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
کسانوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی بڑھتی مہنگائی، کھاد اور بیج کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہیں، اور اب پانی کی قلت نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو رواں سیزن میں بڑی تعداد میں فصلیں تباہ ہو سکتی ہیں، جس سے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے نہر کی نگرانی اور مینٹیننس کے لئے کوئی مستقل اہلکار تعینات نہیں کیا گیا، جس کے باعث نہر دن بہ دن تباہی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال نہروں کی مرمت اور بحالی کے نام پر سرکاری سطح پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں اور کروڑوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔شہریوں کے مطابق بارہا متعلقہ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، مگر عملی طور پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بروقت مرمت اور صفائی کا کام کیا جاتا تو آج کسانوں کو اس پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔اس دوران کانگریس کے نوجوان رکن فیاض دیوان نے بھی نہر کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ محکمہ کو کسانوں کے مسائل سنجیدگی سے لینے چاہئیں کیونکہ زرعی شعبہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔فیاض دیوان نے مطالبہ کیا کہ جہاں جہاں سینچائی نہریں خستہ حال ہیں، وہاں فوری بنیادوں پر مرمتی کام شروع کیے جائیں اور سال بھر نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ کسانوں کو بروقت پانی فراہم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار اعلیٰ حکام کو تحریری اور زبانی طور پر اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، لیکن افسوس کہ ابھی تک کوئی خاطر خواہ کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو کسانوں میں بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔ عوام نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ چکترو تا ڈینگلہ نہر کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ زرعی زمینوں کو تباہی سے بچایا جا سکے اور کسانوں کی معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔