نئی دہلی//یو این آئی// کسانوں کی تحریک کے سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے منگل کے روز راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی بدھ تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔اس سے قبل اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو اور ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تین بار ملتوی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے بعد بھی کسانوں کی تحریک کا معاملہ اٹھایا تھا ۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے اور اس پر ایوان کے سارے کام کاج ملتوی کرکے بحث ہونی چاہیے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ارکان اس معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تھے اور انہیں وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے ۔ اس سے قبل وقفہ صفر کے دوران ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے ، راشٹریہ جنتادل کے صدر منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ونے وشوم اور کئی ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔واضح رہے کہ کسان مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے راجدھانی دلی کی سرحدوں پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بجٹ اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وقفہ سوال آج نہیں ہوسکا اور ایوان کو ایک گھنٹہ کے لئے ملتوی کردیا گیا۔جیسے ہی شام چار بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس ، ترنمول کانگریس ، بائیں بازو ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) ، شرومنی اکالی دل کے اراکین ایوان کے وسط میں آگئے اور تینوں زرعی اصلاحاتی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے ۔ ایوان میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی موجود تھے ۔جیسے ہی ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اراکین کے ہاتھوں میں 'کسان مخالف قانون کو واپس لو ، کسانوں کو قتل مت کرو ، تاناشاہی نہیں چلے گی۔