دنیا جہاں سائنس ، ٹکنالوجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے ،وہیں ہم ابھی تک اسی درجے اور اسی سطح پہ ہیں جہاں آج سے ۷۰ یا ۸۰ سال پہلے ہوا کرتے تھے ۔ ہم سب جھوٹے وعدوں اور فریبی تقاریر اور سحربیانی کی زد میں ہیںکہ واقعی ہمارا حال ہے ع
وہاں دگر گوں ہے لحظہ لحظہ ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
یہی ہماری صورتِ حال بنی ہے جوقوم کے لئے قطعی طور جان لیوا ہے ۔ بڑے افسوس ہورہاہے کہ نہ جانے کیوں ہم ابھی تک جھوٹ ، فریب اور مکاری کے فریب کو چھوڑنے پر تیار نہیں ۔ فریبی سیاست اور جھوٹے وعدوں کا رواج کشمیر میں سات دہائیوں سے چلاآرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن میں کشمیری قوم کو کسی نہ کسی نئے وعدے اور نئے سپنوں کا جھانسہ دے کر پولنگ بوتھ تک پہنچایا جاتا ہے اور بعد از الیکشن ان وعدوں سپنوںکا کوئی پاس و لحاظ نہ رکھتے ہوئے وطن ا وراہل وطن کی قیمت پر اغیار کی اندھی غلامی اور تابع داری شروع ہوتی ہے۔ الیکشن ۲۰۱۹ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی ہربار کی طرح آج بھی ہمارا گھسے پٹے روایتی وعدوںاور نعروں سے پالا پڑا ہواہے ۔ اب جہاں نیشنل کانفرنس کا اٹونومی، پی ڈی پی کا سیلف رول اور ہیلنگ ٹچ کا شوشہ پھر سے پھیلنے لگا ہے، وہیں آج کچھ نئے وعد ے اور نئے دعوے بھی بازارِسیاست میں نمائش کے لئے رکھے جا رہے ہیں ۔ ان نئے نویلے وعدوں میں عوامی اتحاد پارٹی کا رائے شماری کا وہ نعرہ بھی شامل ہے جو کسی زمانے میں نیشنل کانفرنس نے دیا تھا ۔ یہ بات الگ ہے کہ نیشنل کانفرنس کے بانی اور سربراہ شیخ عبدللہ صاحب اس نعرے سے بعد ازاںصاف طور منحرف ہو گئے تھے۔ دوسرا وعدہ جو کشمیری سیاست کے بازار میں زیر بحث ہے وہ ڈاکٹر شاہ فیصل کی قائم کردہ جماعت جموں و کشمیر عوامی موؤمنٹ کا ریاست میں وزیراعظم کا عہدہ بحال کرنے کا وعدۂ فردا ہے۔ شاہ فیصل نے حال ہی میں سیاست میں قدم رکھا ہے، ان کی طرف سے کیا گیا یہ وعدہ عجیب یا توقع سے پرے نہیں ہے کیونکہ وہ سیاست میں نئے ہیں ، اس لئے انہیں اپنے مال کی فروختگی کے لئے کچھ نیا لے کر ہی بازار میں آنا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا یہ مخصوص وعدہ پورا بھی ہوا ور موجودہ سیاسی منظر نامے میں اس کی تکمیل کے امکانات کتنے ہیں، وہ بات دانشوروں ، ماہرین سیاست اور عام لوگوںسے پنہاں نہیں ۔ ایک عام کشمیری بھی یہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ شاہ فیصل صاحب کا یہ وعدہ پورا ہونا کتنا ممکن العمل ہے لیکن غور طلب ہے کہ شاہ فیصل کی اس سیاست کاری کواپنے فصیل میں شگاف سمجھ کر نیشنل کانفرنس نے فوراًوزیر اعظم اور صدرِ ریاست کو بحال کئے جانے کے وعدے کو ا یک بار پھر اپنا منشور جتلایا ۔ اپنے بیانات اور موقف کو بار باربڑی پھرتی سے بدلنے والی جماعت نیشنل کانفرنس نے اس سے قبل بھی اٹونامی کی بحالی کو اپنا چناؤ منشور بنایا تھا لیکن اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں یہ جماعت کس قدر ناکام رہی، وہ نہ صرف تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے بلکہ لوگوں کے حافظے میں بھی موجود ہے۔
کشمیر میں الیکشن کرائے جانے کے لئے سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما کسی بھی حد کو پھلانگ سکتے ہیں ، کوئی بھی روپ دھارن کر سکتے ہیں ۔ انہیں اپناسیاسی مفاد بٹورنے کے لئے چاہے دہلی سے مصنوعی محاذآرائی کی اداکاری کر نی پڑے یا پھر قوم کو نت نئے وعدوں کی آڑ میں بے وقوف بنانے کی ضرورت پیش آئے ، وہ یہ سب کچھ بے تکلفی سے کر گزرتے ہیں۔ کشمیری عوام وہ سادہ طبع ا نبوہ ِ آدم ہے جس نے۲۲؍ سال تک محاذ رائے شماری کے نام پر لیڈروں کا ساتھ دیا لیکن بالآخر انہیںہاتھ کچھ بھی نہ لگا۔ وجہ یہ تھی کہ عوام الناس کے پاس صرف اَندھ وشواس کے خزانے تھے اور کسی واضح سیاسی نظریے یا دوراندیشی سے محروم تھے۔ انہیں پوری طرح اپنے قائدین پر پھروسہ تھاجنہوں نے بدلے میں اُنہیں وقت وقت پر بے وقوف بنایا ۔ رائے شماری کی تحریک ماند پڑنے کے بعد جب کئی سال تک عوام پٹتے اور مٹتے رہے تو عوام کونیشنل کانفرنس پر سے اعتماد اٹھ گیا اور نیشنل کانفرنس کی عوامی ساکھ کم ہوئی۔ نوے سے چھیانوے تک نیشنل کانفرنس نامساعدحالات سے خائف ہوکر بیک گراؤنڈ میں گئی مگر اس نے چھیانوے میں گریٹر اٹونومی کے سنہرے سپنے سے لوگوں کو بہلاکر پھر سے دلی کی آشیرواد سے اقتدار حاصل کیالیکن اس کی کارکردگی سے کشمیری عوام کے دُکھ کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بڑھ گئے ۔اسی پس منظر میں دلی کا ایک نیا سیاسی پروڈکٹ پی ڈی پی کی صورت میںبازار ِسیاست لانچ ہوا ۔یہ جماعت کانگریس لیڈر اور سابقہ مرکزی وزیر مفتی سعید کی سربراہی میں 1998میںمعرض وجود میں آئی،اس نے زخموں کی مر ہم کاری ، باعزت امن اور گولی نہین بولی کے پُر فریب نعروں سے ۲۰۰۲ کے پارلیمانی الیکشن میں دو نشستوں کے ساتھ اپنا سیاسی کھاتہ کھولا ۔ اس جماعت نے سبز پرچم اور قلم دوات کا خوب استعمال کرکے عوام کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ یہی وہ دور تھا جب سیلف رول(Self Rule)، دوہری کرنسی(Dual Currency ) اور ہیلنگ ٹچ (Healing Touch) جیسی چیزوں کی کوب تشہیر ہوئی ۔ سبز رومال کے چکر میں لوگ پھر ایک بار نئی جماعت کے نئے رہنماوں اور نئے نعروں کے فدوی بن گئے اور یہ خیال کیا کہ این سی کا متبادل مفید ہوگا۔ پی ڈی پی نے بھاجپا اور کانگریس سے ریاستی عوام کو بچانے کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے خاندانی راج سے عوام کو نجات دلانے کا وعدہ بھی طمطراق سے دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی ہر سادہ طبیعت کشمیری کے لئے اُمید کی ایک نئی کرن بن کر اُبھری لیکن بالآخر اس جماعت نے بھی بھاجپا سے مخلوط حکومت بناکر کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور اس بات کا عملی ثبوت پیش کیا کہ وہ دہلی کے آقاوں کے حکم کی تعمیل کرنے کے علاوہ عوام کا کوئی اور بھلا کرنے کے اہل نہیں ہے ۔ ۲۰۰۲ ء میں اسمبلی الیکشن میں بھی پی ڈی پی نے ۱۶ ؍نشستوںپر جیت درج کر کے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملایا اورمفتی سعید کو تین سال کے لئے ریاست کا وزیراعلیٰ بننے کا موقع ملا۔ ان کے دورِ حکومت میں یہ بات صاف ہوئی کہ سیلف رول اور ہیلنگ ٹچ محض ووٹ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا جب کہ حقیقت میں پی ڈی پی اپنی پیش رو نیشنل کانفرنس سے کچھ بھی مختلف نہیں ۔ پی ڈی پی کے تئیںلوگوں کی مایوسی کا نتیجہ اگلے الیکشن میںنیشنل کانفرنس کی جیت کی صورت میں سامنے آیا۔۲۰۱۴ء میں پی ڈی پی نے الیکشن میں بی جے پی کا مارچ ریاست میں روکنے کے لئے ووٹ مانگے اور پھر ایک بار نئے وعدوں کی پوٹلی کشمیریوں کو تھمادی ۔ ادھرسیاسی فریب اور رہنماؤں کی پینترہ بازیاں جلدی بھول جانے والی مجبور قومِ کشمیر نے ایک بار پھر پی ڈی پی کے سبز جھنڈے اور قلم دوات کا ساتھ دیا ۔ اس بار پی ڈی پی نے اُسی بھاجپا کے ساتھ قطبین کے ملاپ کا فسانہ چھیڑ کر ہاتھ ملایا جس کا بھوت دکھا دکھاکر کشمیریوں کو ڈرایا اور ووٹ حاصل کئے تھے۔ پی ڈی پی نے آر ایس ایس سے گٹھ جوڑ کر اپنا اصل رنگ دکھا یا اور ثابت کر دیا کہ یہ پارٹی دہلی کے لئے عارضی ا قتدار کے قرضے پر کوئی بھی کام کر نے کو تیار ہے ۔ محبوبہ مفتی کی حکومت میں۶ا۲۰ء کی خون ریزی کی داستان کو شاید ہی کوئی باضمیر کشمیری فراموش کرسکے، اسی طرح جی ایس ٹی نظام کو یہاں لاگو کر واکے انہوں نے ریاست کو حاصل مالی اٹونومی کے پرخچے اڑادئے۔ایسے کئی دوسرے کشمیر مخالف کام اس پارٹی کا وہ کنٹربیوشن ہے جس کشمیر کا مستقبل اور تاریک ہوگا۔ اب یہ پارٹیاں کس منہ سے جموں سری نگر ہائی وے کی دودن تک مکمل بندش پر دکھاوے کا شور کر تی ہیں، یہ بھی ایک سیاسی عجوبہ ہے ۔ جہاں عالم یہ ہو تو چناؤ کی اعتباریت پر سوال اُٹھنا کوئی ناقابل فہم امر نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ پی ڈی پی ، نیشنل اور گانگریس جیسی جماعتوں نے ہی کشمیر میں جمہوری عمل کے تقدس کو پامال کر نے میں ہراول دستوں کا کام کیا ۔
الیکشن ۲۰۱۹ ء کے حوالے سے نئے نئے سیاسی پروڈکٹس بھی بازار میں لائے گئے جو خود کو کشمیر کے مسیحا پیش کر کے نئے نعروں اور وعدوں کا پٹارا لئے کشمیریوں کو کچھ دینے نہیں بلکہ ان سے رہا سہا چھین لینے کے فراق میں ہیں ۔ ناقدین کی نگاہ میں شاہ فیصل صاحب کی جماعت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ ان کا نعرہ اور ان کا وعدہ نہ تو ودسروں سے مختلف ہے اور نہ ہی لب و لہجے میں کوئی انیس بیس کافرق ہے ۔۔۔ وہی مسیحائی کا دعویٰ ،وہی چارہ گری کا وعدے اور وہیں سپنے !!! ہوش مند لوگ فیصل پر سوال ضرور اُٹھار ہے ہیں کہ کیا یہ نعرے ، وعدے اور سپنے قابلِ اعتبار ہیں جن پر لفظوں کے معمولی سے ہیر پھیر سے سارے کشمیری سیاست دان اپنا گزارہ چلارہے ہیں ۔ اگر وہ سسٹم کوبدل دینے کا کوئی نسخہ ٔ عمل رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے تھا کہ سسٹم سے ہی جڑ کر اس کی فائین ٹوننگ کر تے لیکن اگر وہ ہوابدلی چاہتے ہیں تو اس کے لئے کشمیری قوم کے اُن لہو لہان جذبات کی موثر اور مخلص سیاسی ترجمانی کا بیڑہ اٹھانے چاہیے تھا جن کی گزشتہ سات دہائیوں اَن دیکھی اور اَن سنی ہی نہ ہوئی بلکہ ان کا تھوک کے بھاؤ سے سیاست دانوں نے صرف استحصال کیا ۔ اگر شاہ فیصل ایسا کر تے ہیں تو انہیں قربانیوں کے جاں گسل مراحل سے ضرور گزرنا ہوگا،اس کے لئے ان تھک سیاسی جدوجہد بھی کر نا پڑے گی ، آزمائشوں کا سامنا بھی کر ناہوگا مگر قوم ہی نہیں بلکہ تاریخ بھی ہیرو کی حیثیت سے یاد کر ے گی، ورنہ اقتداری سیاست کے لئے اپنی خداداد صلاحیتیں ضائع کر دینا کوئی نیک شگون نہیں ۔
بہرحال کچھ بھی کہیں یہاں اس وقت تک کچھ بھی اچھا نہ ہوگا، نہ کسی کا کوئی بھلا ہوگا اور نہ یہ قوم تب تک ہرگز امن ، آشتی اور فلاح و بہود پا سکتی جب تک یہاں کوئی منڈیلا، کوئی گاندھی، کوئی جناح پیدا نہ ہوگا جو شیخ العالم شیخ نورالدین نورانی کے اس فرمودہ کے جواب میں لبیک کہہ کر کشمیر کو مشکلات وتکالیف سے نجات دلائے ؎
یتھ واؤ ہالے ژونگ کس زالے
تیلہ کن زالس علم تیہ دین
یعنی کون ا س ا ندھیر نگری میں اور آندھی وطوفان میں چراغِ امید روشن کرے اور یہ کام کر تے وقت علم اور دین سے رہنمائی حاصل کرے۔
اس کے لئے ہمین سب سے پہلے ’’ییِ کَرِ ہ تی کَرِہ ۔۔ بب کَرِہ لولو‘‘ کی شخص پرستانہ رِوایات کو ترک کر نا ہوگی اور ہر ایک فردِ بشر کو ایک بالغ نظر سیاسی نظر یہ اور قومی سوجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگی ۔جب تک کشمیری فرداً فرداً وقت کے سیاسی رنگے سیاروں اوران کے وعدوں او ر ارادوںکی حقیقت نہیں سمجھتے اس وقت وہ تبدیلی ، مسیحائی، مر ہم کاری، اٹونومی، گولی نہیں بولی کے نعروں کے پیچھے ہوس ا قتدار کی محسوس نہیں کر پائیں گے۔ہاں ہمیں ایک معقول اور موثر اور متوازن سیاسی قیادت چاہیے جو یہاں کے دکھ درد کا مداوا کرے نہ کہ ہماری گردنوں میںاپنی حکمرانی کا ہالہ ڈال کر ہم پر راج تاج کریں ۔ ۲۰۱۹ء کے ا لیکشن میں حصہ دار بنتے ہوئے کشمیریوں کو سنجیدگی اور متانت سے اپنے سیاسی کردار اک تعین کر ناچاہیے۔ اس بارہمیں پیشہ ور سیاست کاروں میں نیت کے فتور، ان کے جھوٹے وعدوں، کھوکھلے نعروں اور سبز باغوں کاٹھنڈے دل ودماغ سے غور وفکر کر ناہوگا اور پھر فیصلہ لینا ہوگا کہ ہمارے لئے راہ ِ مستقیم کیا ہے ؎
کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا
فون 9906607520